Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
453 - 649
فرماتے سنا: ''یہ عاشوراء کا دن ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پر اس کا روزہ فرض نہ کیاجبکہ میں خود روزے سے ہوں، اب تم میں سے جس کا جی چاہے و ہ روزہ رکھ لے اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔''
 (صحیح البخاری،کتاب الصوم،باب صوم یوم عاشوراء،الحدیث۲00۳،ص۱۵۶)
    حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور دیگرکئی راویوں سے مروی ہے، تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جود وسخاوت، پیکر ِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' اگر میں ائندہ سال تک حیات رہا تو ضرور نویں اور دسویں محرم کا روزہ رکھوں گا۔'' لیکن آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس سے قبل ہی وصال فرما گئے۔
    (صحیح مسلم،کتاب الصیام،باب ای یوم یصام فی عاشوراء،الحدیث۱۱۳۴،ص۸۶0.شعب الایمان للبیھقی،باب فی الصیام/صوم التاسع مع العاشر،الحدیث۳۷۸۷، ج۳،ص۳۶۴)
    یہاں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے دیگر روزوں کو دس محرم کے روزے کے ساتھ ملانے کا ارادہ فرمایاہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی مراد دسویں کے ساتھ نویں محرم کا روزہ رکھناہو۔ لہٰذاحضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی اور دیگر ائمۂ  کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے احتیاطاً دونوں(یعنی نویں اور دسویں محرم)کا روزہ مستحب قرار دیا ہے۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے،نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے: '' نویں اوردسویں (محرم) کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔''
  (جامع الترمذی،ابواب الصوم، باب ماجاء فی عاشوراء ای یوم ھو،الحدیث۷۵۵،ص۱۷۲۱)
    اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے، اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ شفاعت نشان ہے:'' جس نے یومِ عاشوراء تک محرم کے دس روزے رکھے وہ فردوسِ اعلیٰ کا وارث ہو گا۔''
    (نزھۃ المجالس،کتاب الصوم،باب فضل صیام عاشوراء ۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱،ص۲۳۱)
     اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں ان دس دنوں کی طرف اشارہ فرمایا:
 (4) وَ وٰعَدْنَا مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ لَیۡلَۃً وَّ اَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ
ترجمۂ  کنزالایمان:اور ہم نے موسٰی سے تیس رات کاوعدہ فرمایااور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں۔(پ9،الاعراف:142)

    محرم الحرام کے پہلے عشرہ کے بہت زیادہ فضائل وبرکات ہیں۔ انہی میں سے ایک یہ بھی ہے جو حضرت سیِّدُنامعاویہ بن قرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ''حضرت سیِّدُنانوح علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام او ر آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ کشتی میں سوار لوگوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر بجا لاتے ہوئے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا کیونکہ جس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں طوفان سے
Flag Counter