Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
452 - 649
اُٹھایاگیا اور(31)۔۔۔۔۔۔ اسی دن قیامت قائم ہو گی۔''
    (الموضوعات لابن الجوزی،کتاب الصیام،باب فی ذکر عاشوراء، ج۲،ص۲00۔الالیئ المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ، کتاب الصیام،ج۲،ص۹۲۔۹۳۔حاشیۃ اعانۃ الطالبین، باب الصوم، فصل فی صوم التطوع ، ج۲، ص۴۴۴۔۴۴۵)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مقدَّس میں ارشاد فرماتا ہے:
 (3) مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیۡنَۃِ
ترجمۂ  کنزالایمان:تمہاراوعدہ میلے کادن ہے۔(۱)(پ16،طٰہٰ:59)

     حضرت سیِّدُناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ''یہاں''یَوْمُ الزِّیْنَۃِ''سے مراد دسویں محرم کا دن ہے۔''

     وہ بندہ مبارک باد کا مستحق ہے جو اس مبارک دن میں عملِ صالح کرے اور نیکی کے کام کرکے آخرت کے لئے نفع مند تجارت کرے، اپنے  گناہوں اور خطاؤں سے توبہ کرے،نیک بن کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہو جائے اور دوسروں سے نصیحت حاصل کرے ، ناصح (یعنی نصیحت کرنے والے) کی بات قبول کرے، تکبر اور دعوے چھوڑدے اور تقویٰ کے راستے پر چلے۔

    حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،حضور سیِّدُ الْمبَلِّغِیْنَ، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ فضیلت نشان ہے: ''ماہِ رمضان کے بعد افضل روزے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔''
(صحیح مسلم،کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم،الحدیث۱۱۶۳،ص۸۶۶)
    حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یومِ عاشوراء کے روزے کے متعلق پوچھا گیاتو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''میں نہیں جانتا کہ اللہ کے پیارے رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے باقی دنوں پر فضیلت کے طور پر یومِ عاشورہ کے علاوہ کسی دن کا اور باقی مہینوں پر فضیلت کے طور پر رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا روزہ رکھا ہو۔''
 (صحیح مسلم،کتاب الصیام،باب صوم یوم عاشوراء،الحدیث۱۱۳۲،ص۸۵۹)
    حضرت سیِّدُنا حمید بن عبدالرحمن علیہ رحمۃ الرحمن روایت کرتے ہیں، میں نے حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو جس سال انہوں نے حج کیا تھا ، بر سرِ منبر یہ فرماتے سنا: اے اہلِ مدینہ ! تمہارے علماءِ کرام کہاں ہیں؟میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردْگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ ارشاد
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ  اعلیٰ حضرت صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' اس میلہ سے فرعونیوں کا میلہ مراد ہے جو اُن کی عید تھی، اور اس میں وہ زینتیں کرکرکے جمع ہوتے تھے۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ''یہ دن عاشوراء یعنی دسویں محرم کا تھا۔''
Flag Counter