سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جو ابتداء سے انتہاء تک غالب ہے ، اس کی نعمت مؤمن و کافر دونوں کی کفالت کرتی ہے اور اس کی قدرت روشنی اور تاریکی ظاہر کرتی ہے، اس کی رحمت اسے بھی شامل ہے جس نے اپنی زندگی نافرمانیوں میں ضائع کر دی، کتنے ہی امیروں کو اس نے فقیر بنایا اور کتنے ہی فقیروں کو غنی کر دیا،مسکین پر رحم فرمایا، ٹوٹے ہوئے کو جوڑا، گناہوں کو معاف کیا، ویران دلوں کو آباد کیا، سینوں کوکشادگی عطا فرمائی، مظلوموں کی خاطراپنادرِرحمت کھول دیا،فرشتے بھی اس کی ہیبت سے تھر تھر کانپتے ہیں پس وہ کثرت سے اس کی تکبیروتہلیل کرتے ہیں،اسی کے حکم سے کشتی چلتی ہے ، اس نے اپنی رحمت کو ثابت کر دیا ہے اور فرشتوں کو اپنی اس بات پر گواہ بنا لیاہے کہ وہ ہمیشہ خطاؤں کو بخشنے والا ہے، عظمت وتقدیس والا ہے، اسی کو یاد کیا جاتا ہے، وہی معبودِ عظیم ہے،اسی کا حمدو شکر کیا جاتا ہے، وہ نیچے سے نیچی چیز کو بھی ملاحظہ فرماتا ہے کیونکہ وہ سمیع و بصیر (یعنی سننے، دیکھنے والا) ہے، ذہن میں پید اہونے والی سوچ کو بھی جانتا ہے کیونکہ وہ علیم و خبیر(یعنی جاننے والا اور باخبر) ہے، سب کچھ فناہو جائے گا مگر وہ باقی رہے گا اور وہ اِس پرقدرت رکھتاہے، زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور اس نے ہر شئے کو پیدا فرمایا اور اس کا ایک خاص اندازہ رکھا اور اے انسان! تیرے گناہوں کو جاننے کے باوجود تجھے عطاکیا۔ چنانچہ، خود ارشاد فرمایا: