Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
449 - 649
بیان42:                عاشوراء کے فضائل

حمد ِ باری تعالیٰ:
    سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جو ابتداء سے انتہاء تک غالب ہے ، اس کی نعمت مؤمن و کافر دونوں کی کفالت کرتی ہے اور اس کی قدرت روشنی اور تاریکی ظاہر کرتی ہے، اس کی رحمت اسے بھی شامل ہے جس نے اپنی زندگی نافرمانیوں میں ضائع کر دی، کتنے ہی امیروں کو اس نے فقیر بنایا اور کتنے ہی فقیروں کو غنی کر دیا،مسکین پر رحم فرمایا، ٹوٹے ہوئے کو جوڑا،  گناہوں کو معاف کیا، ویران دلوں کو آباد کیا، سینوں کوکشادگی عطا فرمائی، مظلوموں کی خاطراپنادرِرحمت کھول دیا،فرشتے بھی اس کی ہیبت سے تھر تھر کانپتے ہیں پس وہ کثرت سے اس کی تکبیروتہلیل کرتے ہیں،اسی کے حکم سے کشتی چلتی ہے ، اس نے اپنی رحمت کو ثابت کر دیا ہے اور فرشتوں کو اپنی اس بات پر گواہ بنا لیاہے کہ وہ ہمیشہ خطاؤں کو بخشنے والا ہے، عظمت وتقدیس والا ہے، اسی کو یاد کیا جاتا ہے، وہی معبودِ عظیم ہے،اسی کا حمدو شکر کیا جاتا ہے، وہ نیچے سے نیچی چیز کو بھی ملاحظہ فرماتا ہے کیونکہ وہ سمیع و بصیر (یعنی سننے، دیکھنے والا) ہے، ذہن میں پید اہونے والی سوچ کو بھی جانتا ہے کیونکہ وہ علیم و خبیر(یعنی جاننے والا اور باخبر) ہے، سب کچھ فناہو جائے گا مگر وہ باقی رہے گا اور وہ اِس پرقدرت رکھتاہے، زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور اس نے ہر شئے کو پیدا فرمایا اور اس کا ایک خاص اندازہ رکھا اور اے انسان! تیرے  گناہوں کو جاننے کے باوجود تجھے عطاکیا۔ چنانچہ، خود ارشاد فرمایا:
وَمَا کَانَ عَطَـآءُ رَبِّکَ مَحْظُوۡرًا ﴿۲۰﴾
ترجمۂ  کنزالایمان: اور تمہارے رب کی عطا پر روک نہیں۔'' (پ۱۵،بنیۤ اسرآئیل: ۲0)

    اس پر نہ تو کسی قسم کا حجاب ہے کہ وہ چھپا ہوا ہو اورنہ ہی وہ جسم رکھتا ہے کہ مقیّد ہو، اس نے ذمہ دارلوگوں کا انتخاب فرمایا، ان کے چہروں کو نورعطا فرمایا، ان کے دلوں کو اپنی محبت اور کیف وسرور سے بھر دیا اور انہیں اپنی معرفت کا وافر حصہ عطا فرمایا۔ جب اہلِ معرفت نے ہجر وفراق کا شکوہ(شِک۔وَہ) کیا تو اس نے ان کے لئے امان نامہ لکھ دیا۔ ان کوغافل لوگوں کے درمیان بیدار کئے رکھا اور ان کے اور غافلوں کے درمیان پردہ حائل کر دیا۔ جب انہوں نے اس کی عبادت میں اپنے آپ کو تھکا یا اوراپنے چہروں کو تاریکیوں کے پردوں میں چھپا یا تو اس نے بعض کومخلوق کے درمیان(ولایت کا) سورج اور بعض کو (ولایت کا) چاند بنا دیا، انہیں اپنے خطاب کی اچھی طرح سمجھ عطا فرمائی اور اپنے عتاب کی لذت سے لطف اندوز کیا، اپنے قرب کے جام سے شرابِ طہور پلا کر انہیں مقامِ قرب عطا فرمایااور پھربند دروازے کھول کر ان کے سامنے سے تما م حجابات اٹھا ديئے۔

    پاک ہے وہ معبود جس نے سالوں اور زمانوں کو پھیرا اور کچھ دنوں اور مہینوں کو دوسروں پر شرف عطافرمایا اوراوقاتِ عبادات کو دوسرے تمام اوقات پر فضیلت عطا فرمائی اور یومِ عاشوراء کو خصوصی فضیلت و برکت والا بنایا، اس دن اپنے نبی حضرت
Flag Counter