Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
448 - 649
    اے احکامِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی بجا آوری میں غفلت برتنے والے! اے عمرِ عزیز کو بیکار گَنوانے والے! کب تک لہو ولعب میں مبتلا رہے گا جبکہ تیرے گناہ لکھے جارہے ہیں۔ سفرِ آخرت میں تیری حالت کیسی ہوگی جبکہ تیرا راستہ پُر خطر ہے۔عنقریب تو اس ترازو کو دیکھ لے گا جومعمولی سی بات بھی ظاہر کر دے گا:
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿7﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿8﴾
    اے غافل انسان! موت تیرا پیچھا کئے ہوئے ہے۔ اس وقت تیراکیا حال ہو گاجب توآسمان کوپھٹتا ہوا دیکھے گااورتجھ پر مقرَّر فرشتہ تیری اچھائیوں اور برائیوں کو جمع کرکے ان کادفتر بند کرچکاہوگا۔ تجھ پر حجت قائم ہو چکی ہوگی۔ کوئی عذر یا بہانہ نہ چلے گا۔ وہاں ہرانسان اپنی آگے بھیجی ہوئی نیکی یابدی کو ملاحظہ کریگا:
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿7﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿8﴾
وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن
بقیہ۔۔۔۔۔۔کو اس کی نیکیاں اور بدیاں دکھا کر اللہ تعالیٰ بدیاں بخش دے گا اور نیکیوں پر ثواب عطا فرمائے گا اورکافر کی نیکیاں رد کردی جائیں گی کیونکہ کُفر کے سبب اَکارت ہوچکیں اور بدیوں پر اس کو عذاب کیا جائے گا۔'' محمد بن کعب قرظی نے فرمایا کہ'' کافر نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی تووہ اس کی جزا دُنیا ہی میں دیکھ لے گا یہاں تک کہ جب دُنیا سے نکلے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی اور مؤمن اپنی بدیوں کی سز ا دُنیا میں پائے گا تو آخرت میں اس کے ساتھ کوئی بدی نہ ہوگی ۔'' اس آیت میں ترغیب ہے کہ'' نیکی تھوڑی سی بھی کارآمد ہے اور ترہیب ہے کہ '' گناہ چھوٹا سا بھی وبال ہے۔'' بعض مفسِّرین نے فرمایا ہے کہ ''پہلی آیت مؤمنین کے حق میں ہے اور پچھلی کفار کے( حق میں)۔''
Flag Counter