Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
450 - 649
سیِّدُناموسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے خطاب فرمایا اور اپنے خطاب کی پاکیزہ شراب کا جام پلایا،ان کی مناجات کی سماعت کے لئے مقامِ طور کا انتخاب فرمایاپھر انہیں اپنے قرب سے نوازکر اسی عاشوراء کے دن ان سے خطاب فرمایا اور انہیں بہت زیادہ فضل سے نوازا۔ بنی اسرائیل پر اس دن کاروزہ فرض کیا اورروزے دار کے لئے بہت زیادہ اجر تیار فرمایا۔ اسی دن حضرت سیِّدُنا آد م علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی توبہ قبول فرمائی اور ان کوتازگی اور سرور عطا فرمایا۔ اسی دن حضرت سیِّدُنا نوح علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو سفینہ میں طوفان سے نکالا اور انہیں حد درجہ چین وسکون عطا فرمایا۔اسی دن حضرت سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو نارِ نمرود کے شعلوں سے نجات عطا فرمائی۔اسی دن حضرت سیِّدُنا یوسف علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے قید سے رہائی پائی جبکہ آپ بہت زیادہ صبر کرنے والے تھے۔ اسی دن حضرت سیِّدُنا یعقوب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی بصارت کا ضُعْف جاتا رہا۔حضرت سیِّدُناایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی تکلیف دور ہوئی اور حضرت سیِّدُناداؤد علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی لغزش معاف ہوئی۔ زبانِ قدرت قرآنِ پاک میں اس فرمانِ عالیشان سے انہیں بشارت دے رہی ہے:
اِنَّ ہٰذَا کَانَ لَکُمْ جَزَآءً وَّ کَانَ سَعْیُکُمۡ مَّشْکُوۡرًا ﴿٪۲۲﴾
ترجمۂ  کنزالایمان:ان سے فرمایا جائے گا یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری محنت ٹھکانے لگی۔''﴿٪۲۲(پ۲۹،الدھر:۲۲)  حضرت سیِّدُناابوقتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ''یومِ عاشوراء کا روزہ ایک سال قبل کے  گناہ مٹا دیتا ہے۔''
 (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی،الرقم۷۱/۱0۳۸عبداللہ بن معبد،ج۵،ص ۳۷۲)
''یا حسین، یا شہیدِ کربلا ہو دُور ہر رنج وبلا'' کے اِکتِّیس

حروف کی نسبت سے یومِ عاشوراء کی اکتِّیس خصوصیَّات
    حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،حضور نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ برکت نشان ہے(۱): ''(1)۔۔۔۔۔۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بنی اسرائیل پر سال میں ایک دن کا روزہ فرض کیا اور وہ یومِ عاشوراء کاروزہ ہے اور اس سے مراد ماہِ محرم کادسواں دن ہے۔لہٰذا تم بھی اس دن کا روزہ رکھو اوراپنے گھر والوں پر کھلا خرچ کرو (شُعَبُ الایمان میں ہے:) ''جو اس دن اپنے اہل و عیال پر مال میں فراخی وکشادگی کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پرتمام سال رزق وافر فرمائے گا۔''
 (شُعَب الایمان، باب فی الصیام،صوم التاسع مع العشر،الحدیث۳۷۹۵ ،ج۳،ص۳۶۶)
پس تم اس دن کا روزہ
1۔۔۔۔۔۔اس روایت کو علامہ ابن جوزی، علامہ جلال الدین سیوطی اورعلامہ عبد الحق محدث دہلوی رحمہم اللہ تعالیٰ نے موضوع قرار دیاہے۔''(الموضوعات، ج۲، ص۲00۔الالیئ المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ،ج۲،ص۹۲۔۹۳۔ ماثبت بالسنۃ مترجم، ص۲۴)اورعلامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ '' اس کے راوی ثقہ ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بعد والوں نے اس کو وضع کرکے ان سندوں کے ساتھ ترتیب دے دی۔'' لہٰذا اسے حدیث کہہ کر بیان نہ کیا جائے۔نوٹ: اس روایت میں بیان کردہ بعض باتیں دیگر احادیث سے ثابت ہیں۔(علمیہ)
Flag Counter