Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
447 - 649
(11) وَ سُقُوۡا مَآءً حَمِیۡمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَہُمْ ﴿15﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔(۱)(پ26،محمد:15)

    ننگے بدن اُن کے لباس سے بہتر ہیں کیو نکہ اُن کے لباس تار کول کے ہوں گے اورجب وہ پانی مانگیں گے:
(12) یُغَاثُوۡا بِمَآءٍ کَالْمُہۡلِ یَشْوِی الْوُجُوۡہَ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:تو ان کی فریاد رسی ہو گی اس پانی سے کہ چرخ دئیے ہوئے (کھولتے ہوئے)دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا۔(۲)(پ15،الکھف:29)

    کیا تُو نے نافرمانوں کونہیں دیکھاکہ و ہ سنتے ہی نہیں؟ حالانکہ قرآنِ پاک واضح طور پر فرما رہا ہے کہ،
(13) اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیۡقَاتُہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿ۙ40﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک فیصلہ کا دن ان سب کی میعاد ہے۔(پ25،الدخان :40)

    جب ان مجرموں کو آگ دیکھے گی جنہوں نے ایک لمحہ کی لذت کے بدلے برسوں کا عذاب خریداتو،
(14) تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیۡظِ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:معلوم ہوتا ہے کہ شدتِ غضب میں پھٹ جائے گی۔(پ29،الملک:8)

    لہٰذا جو عذابِ نار سے چھٹکارا چاہتا ہے اُسے چا ہے کہ توبہ کر لے،
(15) مِنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔(پ28،المجادلہ:4)

    اے میرے اسلامی بھائیو! جب پاکیزہ بیانات تمہارے میلے دل پر اَثر نہیں کرتے اور عذاب و خوف کی دھمکیاں تمہارے دلوں کو حیران وپریشان نہیں کرتیں تو رب عَزَّوَجَلَّ کے پاکیزہ کلام کی آیاتِ بیِّنا ت تم پر تلاوت کی جاتی ہیں:
(16) فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿7﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿8﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔(۳)(پ30،الزلزال :7۔8)
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''عذاب طرح طرح کا ہوگا اور جو لوگ عذاب دئیے جائیں گے اُن کے بہت طبقے ہوں گے۔ بعض کو زقوم کھانے کو دیا جائے گا، بعض کو غِسْلِیْن(یعنی دوزخیوں کی پیپ) ،بعض کو آگ کے کانٹے۔''

2۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: ''وہ غلیظ پانی ہے روغنِ زیتون کی تلچھٹ کی طرح۔'' ترمذی کی حدیث میں ہے کہ'' جب وہ منہ کے قریب کیا جائے گا تو منہ کی کھال اس سے جل کر گر پڑے گی۔'' بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ وہ پگھلایا ہوا رانگ(یعنی سیسہ یانرم دھات) اور پیتل ہے۔''

3۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:'' حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ'' ہر مؤمن و کافر کو روزِ قیامت اس کے نیک و بداعمال دکھائے جائیں گے۔ مؤمن ۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر
Flag Counter