| حکایتیں اور نصیحتیں |
اے میرے اسلامی بھائیو!کیا تم ان بَرگُزیدہ بندوں کے دل نہیں دیکھتے؟ جو صاف شفاف شیشے کی مانند نرم تھے جن میں نصیحت بھرابیان اثر کرتا تھا اور وعظ ونصیحت ان کی عشقِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی آگ کو مزید بھڑکا دیتی تھی ۔ اور تم بھی بیانات سنتے ہو مگر تمہارے دلوں پر اثر نہیں ہوتا۔تم اپنے گناہوں کی میل کُچیل آنسوؤں سے نہیں دھوتے بلکہ نفع مند چیزیں پسِ پُشت ڈال دیتے ہو اور کھیل کود اور بے ہودہ باتوں کی طرف پیش قدمی کرتے ہو۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تمہارے دل ودماغ پر غفلت نے قبضہ جما لیا اور مہلت کے دنوں نے تمہیں دھوکا دیا۔تو اے اپنے ظلم کے سبب دھوکے میں مبتلا ہونے والو!سنو ! قرآنِ پاک واشگاف الفاظ میں فرما رہا ہے:(5) وَلَا تَحْسَبَنَّ اللہَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ۬ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اور ہر گزاللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے۔(پ13،ابراھیم :42)
اوریہ مہلت مکمل طور پر نہیں بلکہ ،ربِّ قدیر عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:(6) اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیۡہِ الۡاَبْصَارُ ﴿ۙ42﴾
ترجمۂ کنزالایمان:انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لئے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔(پ13،ابراھیم:42)
جب یہ ڈھیل ختم ہو جائے گی تو وہ مزید مہلت مانگتے ہوئے کہیں گے:(7) اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ
ترجمۂ کنزالایمان:تھوڑی دير ہميں مہلت دے ۔(پ13،ابراھیم:44)
پھر ان کو ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا ہوگا اورکہا جائے گا:(8) اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ
ترجمۂ کنزالایمان:اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی۔(پ22،فاطر:37)
روزِ محشر تم انہیں دیکھو گے کہ وہ اپنی قبروں سے بوکھلائے ہوئے نکلیں گے۔جس دن پہلا صور پھونکا جائے گاتو وہ خدائے قہار وجبارجَلَّ جَلَالُہٗ کے حضور اس طرح حاضر ہوں گے کہ ان کے پہلوکانپ رہے ہوں گے اور بد بختی کی علامات ان پر واضح ہوں گی۔ چنانچہ، ربُّ العباد عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:(9) یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰھُمْ
ترجمۂ کنزالایمان:مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے۔(پ27،الرحمٰن:41)
جب ان کی بھوک بڑھے گی تو،(10) لَیۡسَ لَہُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِیۡعٍ ۙ﴿6﴾
ترجمۂ کنزالایمان:ان کے لئے کچھ کھانا نہیں مگر آگ کے کانٹے۔(پ30، الغاشیۃ:6)
جب پیاس کی شدت جوش مارے گی تو،