Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
445 - 649
    ا ے میرے اسلامی بھائیو! کب تک تم سنتوں اور فرضوں کو ضائع کرتے رہو گے؟ کب تک مِٹی سے تیمم کرتے رہو گے حالانکہ پانی بہہ رہا ہے؟ اے اطاعتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں سستی کرنے والے! وہ تیری نافرمانی پر خبردار ہے ۔ خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم! جس کا دل خود وعظ ونصیحت کرنے والا نہ ہو اسے وعظ بھی نفع نہیں دیتا۔
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر ایک رُقعے کا اثر:
    منقول ہے :''حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لوگوں کے سامنے نصیحت آمیز بیان فرماتے اور ان کو بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا شوق دِلاتے ۔ اس کے انعامات کی رغبت دِلاتے اور اس کے عذاب سے ڈراتے۔ یوں لوگوں کا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آنا جانا لگارہتا۔ ایک دن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حسب ِعادت منبرِ شریف پر تشریف فرما ہوئے اور بیان شروع کرنے کا ارادہ کیاتو ایک عورت نے ایک رُقعہ بڑھایا۔جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے پڑھا تو چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شدت سے آہ و بُکا اور گریہ و زاری کرنے لگے اورپھر منبر شریف سے اُتر آئے اور کوئی گفتگو نہ کی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دوستوں نے پوچھا: ''اس رقعہ میں کیا لکھا ہے؟'' توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کو پڑھ کر سنایا۔ اس میں اس مفہوم کے چند اشعار تھے:

    ''اے دوسروں کو تعلیم دینے والے! تو اپنے آپ کو یہ تعلیم کیوں نہیں دیتا؟ تُو بیماروں اور کمزوروں کے لئے تو دَوا تجویز کرتا ہے مگروہ کیسے شفا پائیں گے جبکہ تو خود بیمار ہے۔ ہم نے دیکھاکہ تُوہمیں رُشد وہدایت کرتا ہے جبکہ خود اس سے دُور رہتا ہے۔ پہلے اپنے نفس سے ابتداء کر اوراسے سرکشی سے روک۔جب تُو نے اسے روک لیا تو سمجھ لے کہ توصاحب ِ حکمت ہے۔ پھرتیری بات قبول کی جائے گی، تیرا بیان نفع بخش ہوگا اوراس پر عمل کیا جائے گا۔لوگوں کو ایسے کام سے نہ روک جو تُو خود کرتا ہے۔ اگر تُو نے ایسا کیا تو تجھ پر بہت بڑا طعنہ ہے ۔''

     رقعہ پڑھنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شدّت سے رونے دھونے لگ گئے یہاں تک کہ بے ہوش ہو گئے۔ جب افاقہ ہو ا تو دوستوں نے عرض کی : ''آپ کا کلام بہتر اور دامن پاک ہے، آپ کے بیان سے دل شفاپاتے اور غمزدہ تسلِّی پاتے ہیں، ایسا کلام آپ کے دل پرکیسے اثرنہ کرے جبکہ آپ تو امام ہیں اور امام بھی کیسے ہیں( جن کی عظمت دُنیا جانتی ہے)؟''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو پھر رونا آگیااور ارشاد فرمایا:''میرے لئے یہ درست نہیں کہ لوگوں کے سامنے بیان کروں جبکہ میں اپنے آپ کو اس مقام پر نہیں پاتا ۔'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسو چھلک پڑے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عشقِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ اور سوزِش غم میں مشغول ہو گئے۔ ا س کے بعد نہ کسی نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا کلام سنا، اورنہ ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دیکھایہا ں تک کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس جہا نِ فانی سے کوچ فرما گئے۔
Flag Counter