ذات کی قسم جس نے آپ کو اپنی رضا اور قبولیت کی پوشاک عطا فرمائی ہے! اس بزرگ کا نام کیا ہے جو مجھے اس جزیرے میں تنہا چھوڑ گئے ہیں؟'' انہوں نے ارشادفرمایا:''یہ صاحب ِ علمِ ربّانی حضرت سیِّدُناعبداللہ یونانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تھے، وہ میری جگہ قطب بنائے گئے ہیں، کل وہ تمہارے پاس آئیں گے اور تجھے واپس پہنچا دیں گے، لیکن جب تمہاری ان سے ملاقات ہوتومیری طرف سے کہنا کہ'' میرے اور اپنے درمیان کئے ہوئے وعدے کو نہ بھولنا۔''
حضرت سیِّدُنا سعدون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''میں بیدار ہواتو فجر ہو چکی تھی۔ میں نے وضو کر کے نماز پڑھی اورقرآنِ حکیم کی تلاوت کرنے کے بعد کچھ دیرکے لئے لیٹ گیاتو اچانک مجھے اونگھ آگئی اور مجھے تب پتہ چلا جب وہ بزرگ مجھے بیدار کر رہے تھے۔ میں نے ان کی دست بوسی کرتے ہوئے معذرت کی۔ انہوں نے میراہاتھ پکڑا اور دریا کی طرف چل پڑے یہاں تک کہ ہم خشکی پر پہنچ گئے۔ جب میں نے لوٹنے کاارادہ کیا تو انہوں نے فرمایا:''شیخ کی وصیت کہاں ہے؟''میں نے عرض کی: ''یا سیدی! آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کے اور ان کے درمیان کیا وعدہ ہے،انہوں نے فرمایاہے کہ اسے نہ بھولنا۔''تو آپ نے فرمایا:''میں وعدہ بھولنے والا نہیں ۔''میں نے عرض کی ،'' یا سیدی!مجھے ارشاد فرمائیے! آپ کے اور ان کے درمیان کون سا وعدہ ہے۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''انہوں نے مجھ سے عہد لیا ہے کہ میں ہر روز ان کی زیارت کے لئے آیا کروں گا۔'' میں نے عرض کی :''یاسیدی !اس ذات کی قسم جس نے آپ کو اپنی معرفت عطا فرمائی اور اپنی ولا یت سے مشرف فرمایا! مجھے ایسا توشۂ سفر عطا فرمادیں جو میرے لئے دنیاو آخرت میں نفع بخش ہو۔'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''ہدایت کے راستے پر چلتے رہو، گمراہ مردود لوگوں سے کنارہ کش رہو، آج کے رزق پر قناعت کرو اور کل کی فکر نہ کرو،رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ پر راضی رہو اور آزمائش اور قضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ پر صبر کرو۔''پھر مجھے وہیں چھوڑ کروہ رخصت ہوگئے۔پھرحضرت سیِّدُنا سعدون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''یہی واقعہ میری محبت ،دیوانگی اور شوقِ دیدارِالٰہی عَزَّوَجَلَّ کا سبب ہے۔''
تمام خوبیاں اس ذات کے لئے ہیں جس نے دور کو قریب اور قریب کودور کیا۔دشمن کو دور کیا اور دوست کو قریب کیا۔ نافرمان کو ذلیل کیا اور فرمانبردار، توبہ کرنے والے کو عزت سے نوازا۔ وہ مالکِ حقیقی کہ جو بھی اسے پکارے وہ لبیک کہتے ہوئے جواب دیتا ہے اور جو بھی اس سے مانگے وہ اپنے فضل وکرم سے اس کے سوال سے زیادہ عطا فرماتا ہے۔ پس اے گنہگار انسان! اپنے قبر میں ٹھہرنے کویاد کر اور اپنے نفس کی کڑی نگرانی کراورجب تک تیری جوانی کی ٹہنی تروتازہ اور شگفتہ رہے روزِ جزا اور اپنی آخرت کے لئے عمل کرتا رہ۔ کب تک تو اپنی لغزش کی بیماری میں مبتلا رہے گااور اس کے لئے شفا بخش دوا یا حکیم نہ پائے گا۔رات کی تاریکی میں بیدار ہواوراس ذات سے مناجات کر جو ہمیشہ سمیع و قریب ہے۔اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کے حضور گڑگڑا، دُنیا میں اجنبی بن کر رہ، صبح و شام اس کے سایۂ رحمت کی پناہ طلب کر اور اس کے بابِ کرم پر کھڑا ہوجا تُو اس کے دروازے کو کھلااور اس کی بارگاہ