Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
439 - 649
دریا پر چلنے والا قطب :
    حضرت سیِّدُنامحمد بن ابی حواری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں:''موصل شہرمیں ایک غمزدہ عاشق الٰہی عَزَّوَجَلَّ رہا کرتا تھاجس کا نام سعدون تھا۔ میں اس کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتا۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھا: ''تمہارے غم اور محبت کا سبب کیا ہے؟'' اس نے جواب دیا: ''ایک دن میں سیر وسیاحت کرتے ہوئے نکلا تاکہ کسی ایسے بندے سے ملوں جو میرے دل کو پاک کر دے اور مجھے رب عَزَّوَجَلَّ کے راستے کی معرفت کرا دے۔میں نے ایک آدمی کو دیکھاجو شیر پر سوار تھا۔میں اس سے خوفزدہ ہوا تو اس نے مجھے پکارا: ''کیاتم اپنے جیسی مخلوق سے ڈرتے ہو؟'' پھر اس نے شیر کو بھگادیا اور پیدل چلنے لگا۔ میں اس کے پیچھے ہو لیا اور اسے سلام کیا، اس نے سلام کا جواب دیا۔میں نے عرض کی :''اس ذات کی قسم جس نے آپ کو یہ مرتبہ اور قرب عطا فرمایا ہے! مجھے بھی اس راستے کی رہنمائی فرمائیے۔'' اس نے فرمایا:'' دنیا کو قید خانہ اور آخرت کو ٹھکانہ اور قلعہ جانو، اپنی آنکھوں کو گریہ وزاری اور بیداری کا عادی کرو،سحری کے وقت بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں حاضری کو لازم پکڑو اور اس ذات سے خوفزدہ رہو۔'' میں نے عرض کی:''یاسیدی !مزید کچھ فرمائیے۔''تو ارشادفرمایا : ''اے سعدون !تو عقل مند ہے یا مجنون؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! جب تجھے راہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کی معرفت مل جائے تو تیرا وجود تابع ہو جائے گااور سیاہی دور ہو جائے گی۔''میں نے عرض کی: ''یا سیدی !اس ذات کا واسطہ جس نے آپ کو بھیدوں پر آگاہ فرمایااور آپ کا دل اپنے انوار سے معمور فرمایا! مجھے اجازت دیجئے کہ دن کا بقیہ حصہ آپ کی صحبت میں گزاروں۔''تو فرمانے لگے: ''اس شرط پر کہ تم جو دیکھو گے اسے میرے زندہ رہنے تک چھپائے رکھو گے۔'' میں نے حامی بھرلی۔ پھر فرمایا:'' میرے ساتھ چلو ، ہم کسی کے جنازے پر حاضر ہو ں گے۔'' 

    پھر ہم چلتے چلتے ایک دریا پر جاپہنچے۔ انہوں نے دریا پر اپنی چادر بچھائی او ر میرے ہاتھ کو تھام لیا۔ہم چادر پر بیٹھ گئے یہاں تک کہ ہم دریا کے درمیان ایک جزیرے پر پہنچ گئے ۔ وہاں ہم نے ایک آدمی کو دیکھا جو چِت لیٹا ہوا تھا، وہ سکرات موت میں تھا۔ جب اس کا انتقال ہو گیا تو ہم نے اس کے غسل وکفن کا اہتمام کیا، اس پر نمازِ جنازہ پڑھی پھر اسے قبر میں دفن کر دیا۔میں نے عرض کی:'' یاسیدی !یہ کو ن ہيں اوران کا نام کیا ہے؟'' ارشادفرمایا:''یہ حضرت سیِّدُنا عبد الوہاب علیہ رحمۃ اللہ التَّوَّاب ہيں جو سات قطبوں میں سے ایک تھے، اب مجھے ان کی جگہ دی گئی ہے۔''میں نے ان سے ان کے اپنے متعلق بھی پوچھنا چاہا مگر انہوں نے بتانے سے انکار کر دیا اورمجھے چھوڑ کر تشریف لے گئے۔میں جزیرے میں اکیلا رہ جانے کی وجہ سے شدت سے رو پڑا۔ پھرمیں نے اس قبر پر تلاوتِ قرآنِ کریم کی آواز سنی لیکن پڑھنے والا نظر نہ آرہا تھا۔ میں اس سے مانوس ہو گیا اور قبر کے پاس ہی بیٹھ گیا۔ میں سونے اور جاگنے کی کیفیت میں تھاکہ مجھے خواب میں ایک حسین وجمیل بزرگ کا دیدار ہوا۔میں نے عرض کی : ''یاسیدی !اس
Flag Counter