Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
432 - 649
سے وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا: ''یہ روشنائی علم کا باقی ماندہ حصہ ہے، لہٰذا میں اسے کپڑوں سے صاف نہیں کرتا کہ ہو سکتاہے وہ کپڑا گندگی میں ڈال دیا جائے۔''
آٹھ لاکھ، ساٹھ ہزار شرکائے جنازہ:
    حضرت سیِّدُنامحمد بن موسیٰ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سَن164ہجری میں پیدا ہوئے اور بوقتِ وصال آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر مبارک 77 برس تھی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جمعہ کی نماز کے بعد دفنایاگیا۔ کثیرلوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازہ میں اکٹھے ہوئے۔ حضرت سیِّدُنامحمدبن طاہر علیہ رحمۃاللہ الظاہر نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ جب نمازِ جنازہ میں حاضرین کو شمار کیاگیا تو آٹھ لاکھ(8,00,000) مرد اور ساٹھ ہزار (60,000)عورتیں تھیں۔ جس جگہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی وہ چونسٹھ (64)جَرِیْب(۱) تھی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعزیت کے لئے خلیفہ متوکل یا خلیفہ واثق بیٹھا تو حکماء وامراء اور خاص لوگو ں سے کہا گیا کہ خلیفہ سے تعزیت کریں۔
 (حلیۃ الاولیاء،الامام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ، الحدیث۱۳۵۶۳،ج۹،ص۱۷۴۔ الطبقات الکبریٰ للشعرانی، الرقم۹۴، الامام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ، ج۱، ص۸0)
دس لاکھ احادیث لکھنے والا امام :
    حضرت سیِّدُناامام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے زمانہ کے سب سے بڑے زاہد، متقی، فقیہہ اور پرہیز گارتھے۔حدیث ِ پاک کو سب سے زیادہ جانتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحیح احادیث کو غیر صحیح احادیث سے علیحدہ کرکے نشان دہی کی۔ آپ رضی 

للہ تعالیٰ عنہ رجالِ حدیث(یعنی حدیث کے راویوں ) اور ان میں سے سچے راویوں کے متعلق بھی سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دس لاکھ (10,00,000) احادیث تحریر فرمائیں۔جن میں سند اور متن والی احادیث کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار (1,50,000) ہے ۔

     منقول ہے کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تشدُّد کیا گیااور مصائب وآلام ڈھائے گئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ثابت قدم رہے۔ جس کی وجہ سے اہلِ مشرق و مغرب کے محبوب بن گئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ لوگوں کی نگاہوں میں باعزت رہے یہاں تک کہ جب لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتے تو گویا وہ کسی شیر کو دیکھ رہے ہوتے۔
1۔۔۔۔۔۔جریب :زمین کی اس معلوم مقدارکوکہتے ہيں جودس قفیز کے برابر ہوتی ہے اورہرقفیزجالیس ہاتھ کاہوتا ہے  (لسان العرب،ج۱، ص۵۶۵)
Flag Counter