حاضر ہوئے۔ وہاں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تنگ دستی غالب آگئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک بالٹی تھی۔وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی چیز کے بدلے ایک سبزی فروش کے پاس گِروی رکھ دی۔ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تنگ دستی دُور فرما دی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سبزی فروش کے پاس آئے اور اسے رقم دے کر اپنی بالٹی کا مطالبہ کیا۔ سبزی فروش کھڑا ہو ا اور ایک جیسی دو بالٹیاں حاضر کر دیں اور کہنے لگا:''مجھ پر آپ کی بالٹی مشتبہ ہو گئی ہے، آپ ان میں سے جو چاہیں لے لیں ۔''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''مجھ پر بھی معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے کہ کون سی بالٹی میری ہے؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں اسے بالکل نہ لوں گا۔'' سبزی فروش نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں بھی اس کو دئیے بغیر نہ چھوڑوں گا۔''آخر کار دونوں اس کو فروخت کر کے رقم صدقہ کرنے پر رضامند ہوگئے۔
(حلیۃ الاولیاء،الامام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ،الحدیث۱۳۶0۱،ج۹،ص۱۸۱،بتغیرٍ)
حضرت سیِّدُنا ادریس حداد علیہ رحمۃاللہ الجواد فرماتے ہیں: ''جب بھی حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی جنازہ میں جاتے تو اس دن نہ کھانا کھاتے، نہ اس رات سوتے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کوئی قبر دیکھتے تو اس طرح روتے جیسے وہ عورت روتی ہے جس کا بچہ فوت ہوچکا ہو۔''
''لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ
یعنی بلند وبرتر پروردْگار کے سوا کوئی طاقت وقوت نہیں۔''
اور قسم کھائی کہ آئندہ جب بھی نکلوں گاچہرہ ڈھانپ کر نکلوں گاتاکہ کسی عورت پر نظر نہ پڑے۔
جب بھی کوئی نیاواقعہ یامسئلہ درپیش ہوتا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو اس وقت تک نہ لکھتے جب تک علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی خدمت میں پیش نہ فرما لیتے۔ اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے ان کی رائے کے مطابق ہوتی تو لکھ لیتے ورنہ چھوڑ دیتے اور دل میں آنے والی بات پر استغفار کرتے۔
حضرت سیِّدُناادریس حداد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زُہد و وَرَع کا یہ عالم تھا کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاقلم خشک ہو جاتا تو اسے اپنے سر سے پُونچھتے،اپنے کپڑے سے نہ پونچھتے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ1۔۔۔۔۔۔دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں آنکھوں کو بدنگاہی سے بچانے کو'' آنکھوں کا قفل مدینہ'' کہتے ہیں۔
امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آنکھوں کا قُفلِ مدینہ:(۱)
ایک روزحضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اچانک گھر سے باہر نکلے تو ایک عورت پر نظر پڑی جس کاچہرہ کُھلاہوا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً پڑھا: