Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
430 - 649
گزر ہوا۔ انہوں نے اُونی جبہ پہن رکھا تھا۔ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی سے فرمایا: ''اے ابو عبداللہ! کیا میں اس ناواقف کواس کی ناواقفیت پر آگاہ نہ کروں؟'' حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے فرمایا: ''چھوڑیئے! اسے اپنے حال پر رہنے دیجئے۔'' حضرت سیِّدُناامام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''نہیں، اسے سمجھانا بہت ضروری ہے۔'' پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیِّدُنا شیبان علیہ رحمۃاللہ المنّان کو اپنے پاس بلاکر استفسار فرمایا: ''اے شیبان! اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو جو کسی دن اپنی نماز بھول گیااور نہیں جانتا کہ کون سی نماز تھی تواب اس پر کیا واجب ہے؟'' تو حضرت سیِّدُنا شیبان علیہ رحمۃاللہ المنّان نے جواباً ارشاد فرمایا: ''اے احمد! ایسے شخص کا دل یادِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے غافل ہے اور وہ بھولا ہوا غافل ہے۔لہٰذا اس پرلازم ہے کہ وہ سیکھے تاکہ دوبارہ کبھی نماز سے غافل نہ ہو اوراس د ن کی ساری نمازیں بھی قضا کرے۔ پھر وہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: '' کیا آپ دونوں میرے جواب کا رد کرسکتے ہیں؟''یہ سن کرحضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوشی سے چِلّااُٹھے اور فرمایا: ''نہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !یہی جواب صحیح ہے۔''پھر ان کو وہیں چھوڑ کر حضرت سیِّدُنا شیبان علیہ رحمۃاللہ المنّان تشریف لے گئے۔''

    حضرت سیِّدُنا ادریس رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سِلا ہوا لباس نہ پہنتے تھے بلکہ کچی سلائی کرکے درمیان سے گول کاٹ لیتے اور سرمیں داخل کرلیتے اور فرماتے: ''جو مرجائے گا اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زیادہ ترخود رُو زمینی سبزی تناول کرتے اور فرماتے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ وہ حلال چیز ہے جس میں کوئی حساب وکتاب نہیں۔''
مَشعَل کی روشنی میں سوت نہ کاتو:
    حضرت سیِّدُنا ادریس رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، ایک روز آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رفقاء کی عورتوں کا ایک گروہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر تھاکہ ایک عورت آگے بڑھ کر عرض کرنے لگی:''یاسیِّد ِی! ہم اپنے گھروں میں سوت کات رہی ہوتی ہیں تو قریب سے سپاہی مشعل لے کر گزرتے ہیں تو کیا ہمارے لئے ان مشعلوں کی روشنی میں اُون کاتنا جائز ہے؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:''تم کون ہو؟''اس نے عرض کی : ''حضرت سیِّدُنا بشرِ حافی علیہ رحمۃاللہ الکافی کی بہن۔'' تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''تمہارے گھرسے تقویٰ کا ظہور ہوا اس لئے تم اس کی روشنی میں اُون مت کاتو۔''
 (وفیات الاعیان لابن خلکان،حرف الباء، الرقم۱۱۴، الحافی، ج۱، ص۲۶۸،بتغیرٍ)
    حضرت سیِّدُناادریس حداد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک بارحضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج کے لئے
Flag Counter