| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضرت سیِّدُنا علی بن سعید رازی علیہ رحمۃاللہ القاضی فرماتے ہیں: ''ایک دن ہم حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ خلیفہ مُتَوَکِّل کے دروازے پر پہنچے۔ جب درباریوں نے آپ کو خاص دروازے سے اندر داخل کیا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ارشاد فرمایا: ''واپس لوٹ جاؤ! اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں عافیت عطا فرمائے ۔'' چنانچہ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعا کی برکت سے آج تک ہم میں سے کوئی بیمار نہ ہوا۔''
(المرجع السابق،ص۵۱۲)
حضرت سیِّدُنا ہلا ل بن علاء علیہ رحمۃُ ربِّ العُلٰی فرماتے ہیں:''چار شخصیات ایسی ہیں جن کا اسلام پر احسان ہے: (۱)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو اذیت وتکلیف پر ثابت قدم رہے اور قرآنِ عظیم کو مخلوق نہ کہا (۲)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا ابوعبد اللہ شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، جنہوں نے کتاب و سنت پر فقہ کی بنیاد رکھی (۳)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ قاسم بن سلام علیہ رحمۃاللہ السلام، جنہوں نے حضور نبئ پاک، صاحب ِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی حدیث کی تشریح فرمائی اور(۴)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیِّدُنا ابو زکریاعلیہ رحمۃاللہ الکبریا ،جنہوں نے صحیح اور غیر صحیح احادیث میں فرق واضح کیا۔''
حضرت سیِّدُنا محمد بن موسیٰ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا حسین بن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز کی طرف مصر سے بہت سا مالِ وراثت بھیجا گیا تو انہوں نے حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں تین تھیلے پیش کئے۔ ہر تھیلے میں ہزار دینار تھے اور عرض کی :''اے ابو عبداللہ ! اسے اپنے گھر والوں پر خرچ کر لیجئے۔'' توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''مجھے اس مال کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے میرا اللہ عَزَّوَجَلَّ کافی ہے۔''اور سارا مال لوٹا دیا۔(حلیۃ الاولیاء،الامام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ،الحدیث۱۳۶۳۶،ج۹،ص۱۸۷)
حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبداللہ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ''میرے والد ِمحترم ہر رات ایک منزل قرآنِ حکیم پڑھتے اور سات دن میں قرآنِ مجید ختم فرماتے پھر صبح تک کھڑے ہو کر عبادت کرتے رہتے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر دن تین سو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کوڑے برسائے گئے تو آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کمزور پڑ گئے۔ اور پھر ہر دن ایک سو پچاس (150)رکعت ادا فرماتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین بار سکون میں آتے اور تین بار آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چیخ بلند ہوتی ۔''
(حلیۃ الاولیاء،الامام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ،الحدیث۱۳۶۵۸،ج۹،ص۱۹۲)
سیِّدُنا شیبان راعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا جوابِ لا جواب:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ''ایک روزمیرے والد ِ محترم حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے قریب سے حضرت سیِّدُنا شیبان راعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا