| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ انتہائی صالح و مُتَّقی تھے اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سچے ایمانداروں کی علامات پائی جاتی تھیں۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُناادریس حدادعلیہ رحمۃاللہ الجواد فرماتے ہیں:''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبداللہ علیہ رحمۃاللہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے روٹی اور کچھ سالن دینا اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔جب وہ قاضی بن گئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روٹی قبول کرنے سے انکا ر کر دیا اورارشاد فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں اس سے کبھی کھانانہ کھاؤں گا۔''اور مرتے دم تک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اس قول پر کاربند رہے۔''
(تذکرۃ الاولیاء،ص۱۹۷)
حضرت ادریس حدادعلیہ رحمۃاللہ الجواد فرماتے ہیں:''میں نے حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوہمیشہ نماز پڑھتے، تلاوتِ قرآن کرتے یا کوئی کتاب پڑھتے دیکھا اور کبھی کسی دُنیوی معاملے میں مشغول نہ پایا۔اورجب ان مذکورہ کاموں میں شدّت آجاتی تو ایک، دویا تین دن تک کچھ نہ کھاتے۔ جب اپنے گھر والوں کو دیکھتے تو پانی پی لیتے جس سے وہ سمجھتے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیٹ بھرا ہوا ہے۔''
حضرت سیِّدُنا مروزی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں،جب حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قرآنِ پاک کو غیرِ مخلوق ماننے پر خلیفہ واثق کے قید خانہ میں ڈالا گیا۔ توایک دن داروغۂ جیل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا: ''اے ابوعبد اللہ! کیاوہ حدیث صحیح ہے جوظالموں اور ان کے مددگاروں کے متعلق ہے؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،'' جی ہاں! صحیح ہے۔'' اس نے کہا، '' پھر تو میں بھی ظالموں کے مددگاروں میں سے ہوں۔'' توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''نہیں(تو ظالموں کا مددگار نہیں)۔'' اس نے کہا، ''کیوں نہیں ؟''فرمایا:'' ظالموں کا مددگار تو وہ ہے جو تیرے بال سنوارے، کپڑے دھوئے اور تیرے لئے کھانا لائے جبکہ تُو خود ظالم ہو۔''(صید الخاطر لابن الجوزی،فصل التطلع بلا عمل،ص۱۴۲)
حضرت سیِّدُنا ادریس حدادعلیہ رحمۃاللہ الجواد فرماتے ہیں:''جب حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابتلا و آزمائش کی گھڑیاں ختم ہوئیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گھر لایا گیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف کثیر مال بھیجا گیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ضرورت کے باوجود سارا مال واپس کردیااور اس میں سے کچھ نہ لیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچاحضرت سیِّدُنا اسحاق علیہ رحمۃ اللہ الرزاق نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس دن کے لوٹائے ہوئے مال کا حساب لگایا تو وہ پچاس ہزار دینارکا تھا۔ اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چچا سے فرمایا:''اے چچا! میں آپ کوایسے حساب میں مشغول پاتاہوں جو آپ کے لئے بے فائدہ ہے۔'' چچا نے کہا:'' آج تم نے اتنا مال واپس کر دیا حالانکہ تمہیں ایک ایک دانہ کی ضرورت ہے۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اگر ہم اسے طلب کرتے تو یہ نہ ملتا اور جب ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے تو یہ ہمارے پاس آیا ہے۔''
(سیر اعلام النبلاء، الرقم۱۸۷۶، احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ، ج۹، ص۵۱۱)