Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
421 - 649
    یہ لوگ بغیر عزم وحوصلے کے اظہارِ غم کرتے ہیں، بغیر علم کے بحث مباحثہ کرتے ہیں اور بلا سوچے سمجھے سوال کرتے ہیں۔ یقینا یہی وہ لوگ ہیں جو جہالت کی تلوار سے پَچھاڑ کھائے ہوئے ہیں۔ ربّ عظیم جَلَّ جَلَالُہٗ ارشاد فرماتا ہے:
 وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا ﴿104﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں۔

    حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سحری کے وقت کثرت کے ساتھ نماز ،ذکر ِ الٰہی اور اوراد و وظائف کا اہتمام فرماتے۔پھردرس وتدریس میں مشغول ہو جاتے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسے خوش بخت ہیں جن کی تعریف اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زبانِ حق ترجُمان سے ہوئی مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر کبھی فخر نہ کیایہاں تک کہ حصولِ علم کے لئے مشکل ترین راستوں کا سفر کیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے علم حاصل کرنے کی خاطر تمام مشکلات کا سامنا کیا۔

    اے غافل انسان! توجہالت کے گڑھے میں گِرا ہواہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے احکام کو چھوڑ بیٹھا ہے۔
امامِ مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور تعظیمِ خاکِ مدینہ :
    حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی فرماتے ہیں: ''میں نے حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازے پر خراسان یا مصر کے گھوڑے بندھے ہوئے دیکھے جوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبطورِ ہدیہ پیش کئے گئے تھے ۔ان سے زیادہ عمدہ گھوڑے میں نے کبھی نہ دیکھے تھے۔ چنانچہ، میں نے عرض کی: ''یہ کتنے عمدہ گھوڑے ہیں۔'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''میں یہ سب آپ کو تحفے میں دیتا ہوں۔''میں نے عرض کی :''ایک گھوڑا آپ اپنے لئے رکھ لیں۔'' تو فرمایا:''مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا آتی ہے کہ اس مبارک زمین کو اپنے گھوڑے کے قدموں تلے روندوں جس میں اس کے پیارے رسول، رسولِ مقبول، بی بی آمنہ کے گلشن کے مہکتے پھول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا روضۂ انور ہے۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب العلم،باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامھما واحکامھما،ج۱،ص۴۸)
    حضرت سیِّدُنا یحیی بن سعید علیہ رحمۃاللہ المجید فرماتے ہیں :''حضرت امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس امت کے لئے رحمت ہیں ۔''

    حضرت سیِّدُنا ابو قدامہ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ''حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے''حافِظُ الحدیث'' تھے۔''
(ترتیب المدارک وتقریب المسالک،باب شھادۃ السلف الصالح واھل العلم لہ بالامامۃ فی العلم،ج ۱،ص۳۷)
Flag Counter