Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
420 - 649
بڑے جابروں کے سر جھک جاتے ہیں۔ یہ دنیا کے تمام گوشوں میں سورج چاند کی طرح اپنے علم کی روشنی پھیلاتے ہیں۔ بلاشبہ ان کا ذکر ِ خیر کتابوں میں لکھا جا چکا ہے۔ البتہ!جو اپنے عمل میں ریاکاری کرتا ہے اوراہلِ دنیا کے لئے اچھے ا عمال کرتا ہے۔ اسے جھوٹی امیدوں نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔وہ ایسی خوبیوں پر اپنی تعریف چاہتاہے جو اس میں نہیں پائی جاتیں(یعنی اپنی جھوٹی تعریف کی خواہش کرتا ہے) تو یہ ان لوگوں میں سے ہے جو اُلٹے دماغ اور گھٹیا سوچ کے مالک ہوتے ہیں۔ایسے لوگ جب کوئی ایسی بات سنتے ہیں جو ان کی سمجھ میں نہیں آتی اور ان کا علم اس سے قاصر ہوتا ہے توان کے اُصول و قواعدبگڑجاتے ہیں۔ ان کے لئے اپنے مقصد کاحصول مشتبہ ہو جاتاہے۔نیکیوں کی صورت میں  گناہ کرنے لگ جاتے ہیں۔برائیوں کواچھائیاں سمجھ کر ان کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ اور یوں عمل میں خیانت کرتے اورحصولِ مراد میں ناکام وبے مراد ہوجاتے ہیں۔

    تعجب اس پرنہیں جو ناواقف ہے اور جہالت کی وجہ سے مرتکب ِ  گناہ ہوا اور نافرمانی کا اعتراف بھی کر چکا ہے کیونکہ اس کے لئے توبخشش ہے۔ جیسا کہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
(4) ﴾قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ یَّنۡتَہُوۡا یُغۡفَرْلَہُمۡ مَّا قَدْ سَلَفَ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان :تم کافروں سے فرماؤ! اگر وہ باز رہے تو جو ہوگزرا وہ انہیں معاف فرما دیا جائے گا۔(پ9،الانفال :38)

    بلکہ تعجب تو اس پرہے جو علم کا دعویٰ  کرے مگر اس کا مقصد حصولِ دنیا ہو۔ ایسے شخص کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ملامت کی جائے گی۔ یہ لوگوں کے نزدیک قابلِ مذمت اور اجر وثواب سے محروم ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ عَزَّوَجَل کے دین کو ہنسی مذاق اورکھیل کود بنالیا۔انہوں نے اپنے مواعظ و بیانات کو خوش کن اور تیز تر کر لیا لیکن ان کی بات دل سے نہیں سنی جاتی۔ یہ وعظ ونصیحت کرتے ہیں مگر ان کا بیان لوگوں کے دل پر اثر نہیں کرتااورنہ ہی آنکھوں سے اشک زاری ہوتی ہے۔

    چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتاہے:
(5)  وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا ﴿104﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں۔(پ16،الکھف :104)

    جب یہ کوئی حکم سنتے ہیں تو اس میں تبدیلی اور تحریف کرلیتے ہیں اور جب کوئی چیز ناپ تول کر دیتے ہیں توکمی کر دیتے ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! یہ سب شریعت میں حرام ہے۔ چنانچہ،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
 وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا ﴿104﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں۔
Flag Counter