| حکایتیں اور نصیحتیں |
کے صدر مقام پرتشریف فرما ہوکر حدیثِ پاک بیان کرتے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو ارشاد فرمایا:''مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ اللہ کے مَحبوب ، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی حدیث ِ پاک کی تعظیم کروں۔'' (
حلیۃ الاولیاء، مالک بن انس،الحدیث۸۸۵۸،ج۶،ص۳۴۷)
یوں ہی علم کی تعظیم کی جاتی ہے۔ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام جب علم کی تعظیم کرتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ لوگوں کے دلوں میں ان کی عظمت ڈال دیتا ہے اوربادشاہوں اور دوسرے افراد کے دلوں میں اُن کا رعب ودبدبہ بٹھا دیتا ہے۔
اے علم کے طلب گار! علم کے لئے عاجزی اختیار کر۔جو اس کے لئے عاجز ی کرتا ہے حقیقۃًوہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے عاجزی کرتاہے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے عاجزی کرتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا مرتبہ بلند فرما دیتا ہے۔ بلاشبہ مِٹی قدموں کے نیچے آ کر حقیر ہوتی ہے تو چہرے کے لئے پاکی کاباعث بن جاتی ہے۔ چنانچہ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :(3) فَامْسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمْ وَاَیۡدِیۡکُمۡ مِّنْہُ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:تواپنے منہ اور ہاتھوں کااس(مِٹی) سے مسح کرو۔(پ6،المآئدہ:6)
اے میرے اسلامی بھائی! علم کے اجتماع میں حاضری کو اس طرح یقینی بنا لے جس طرح بچہ ہر وقت دودھ کا محتاج ہوتا ہے مگر جب وہ بڑا ہوتا ہے تو اسے چھوڑنے پر صبر کر لیتا ہے۔ یاد رکھ! فضائل کا راستہ مصیبتوں سے بھرا ہواہے تاکہ ناپختہ ارادے والا راستے ہی سے لوٹ آئے۔ اے نوجوان! تیرے نفس کا موتی علم سیکھنا ہے اور اس کا زیور عمل ہے۔ اگر تو نے میری نصیحت مان لی تو تیرے لئے مسند ِ صدارت ہے یا منبر کی اونچائی ۔؎ وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْعِلْمِ صَانُوْہ، صَانَہُمْ وَلَوْ عَظَّمُوْہ، فِی النُّفُوْسِ لَعَظَّمَا أاَغْرِسُہ، عِزًّا وَ اَجْنِیْہِ ذِلَّۃً اِذًا فَاِتِّبَاعُ الْجَھْلِ قَدْ کَانَ أحْزَمَا تَعَلَّمَ فَلَیْسَ الْمَرْءُ یَخْلُقُ عَالِمًا وَلَیْسَ اَخئوْ عِلْمٍ کَمَنْ ہُوَ جَاھِلُ وَاِنَّ کَبِیْرَ الْقَوْمِ لَا عِلْمَ عِنْدَہٗ صَغِیْرٌ اِذَا اِلْتَفَتَ عَلَیْہِ الْمَحَافِلُ
ترجمہ:اگر علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام علم کی حفاظت کريں گے تو یہ ان کی حفاظت کریگا۔ اگر وہ دل سے اس کی تعظیم کریں گے تو یہ بھی ان کوعزت دے گا۔ کیا میں عزت کا بیج بو کر ذلت کا پھل توڑوں گا؟ اگر ایسا ہے تو جاہل کی اتباع میں ہی احتیاط ہے۔ اے بھائی! علم حاصل کر کیونکہ انسان پیدائشی طور پر عالم نہیں ہوتااور علم والا جاہل کی طرح نہیں ہو سکتا۔ قوم کا بے علم سردار چھوٹا ہے جبکہ لوگ اس سے منہ موڑ لیں۔
منقول ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علم کا شہرہ ہوا اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاذکر ِ خیر اور