Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
416 - 649
فرماتے ہیں۔ میرا قلم ابھی روشنائی سے تَر تھا، خشک بھی نہیں ہوا تھا کہ سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ران مبارک (وحی کے بوجھ سے) مجھ پر بھاری ہونے لگی۔ جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو افاقہ ہوا تو ارشاد فرمایا: ''اے زید! اب لکھو
: ''غَيْرُ اُولِی الضَّرَرِ۔''
 (یعنی آیتِ مبارکہ کی ترتیب اس طرح ہوگئی :
لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوۡنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ غَیۡرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنۡفُسِہِمْ ؕ
تر جمۂ کنز الایمان: برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہِ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں۔ (پ۵، النسآء: ۹۵)

    (پھر فرمایا) اے امیر المؤمنین!جب ایک حرف کے لئے حضرت سیِّدُنا جبرائیل علیہ السلام اوردیگرفرشتوں نے پانچ ہزار سال کی مسافت برداشت کی تو کیامجھ پراس کی عزت و جلالت کا پاس رکھنا ضروری نہیں؟ اور آپ کو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بلند مرتبہ عطا فرمایا اور مسند ِ خلافت پر فائز کیا ہے۔پس آپ علم کا مرتبہ گھٹانے والے سب سے پہلے شخص نہ بنیں ورنہ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی قدرومنزلت کم کر دے گا۔''راوی فرماتے ہیں کہ خلیفہ ہارون الرشید اٹھے اورحضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کے گھر کی طرف چل پڑے تاکہ آپ سے موطأ سنوں ۔آپ نے خلیفہ کو اپنے ساتھ مسند پر بٹھایا۔ جب خلیفہ نے آپ سے مؤطا پڑھنے کاارادہ کیا تو کہنے لگے:''آپ مجھے پڑھ کر سنائیں۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''اے خلیفۃ المسلمین! میں نے آج تک کسی کوپڑھ کر نہیں سنایا۔''ہارون الرشید نے کہا: لوگ باہر چلے جائیں تومیں پڑھ کر سناتا ہوں۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''جب خاص لوگوں کی وجہ سے عام لوگوں سے علم کو روک دیا جائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ خاص لوگو ں کو بھی اس سے نفع نہ دے گا۔''پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے فرمایا:'' معن بن عیسیٰ قزاز کو پڑھ کر سناؤ۔'' جب خلیفہ نے پڑھنا شروع کیا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے امیر المؤمنین! میں نے اپنے ملک کے علماء کو دیکھا ہے کہ وہ علم کے لئے عاجزی کرنا پسند کرتے ہیں۔'' یہ سن کرہارون الرشید مسند سے نیچے اترے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیٹھ گئے۔''
 ( تاریخ دمشق لابن عساکر،الرقم۴۱۲0، عبد العزیز بن عبدالقریب ابویعلٰی،ج۳۶،ص۳۱۱۔۳۱۲)
      حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حصولِ علم کے متعلق سوال ہوا توارشاد فرمایا:''علم سیکھنا بہت اچھا ہے۔ لیکن یہ     خیال رکھو کہ جوشخص صبح سے شام تک تمہارے ساتھ رہے تم بھی اسے لازم پکڑو۔''
(حلیۃ الاولیاء،مالک بن انس،الحدیث۸۸۷0،ج۶،ص۳۴۹)
    حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ علمِ دین کی حد درجہ تعظیم فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ جب حدیث ِ پاک بیان کرنے کا ارادہ فرماتے تو وضو کرکے دونفل پڑھتے پھرداڑھی میں کنگھی کرتے ،خوشبولگاتے اور عزت ووقار کے ساتھ اپنی مسند
Flag Counter