| حکایتیں اور نصیحتیں |
فضیلت دوسرے ممالک تک پھیل گئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں علم کی ترویج و اشاعت کے لئے مال ودولت حاضر کیا جاتا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو اپنے دوست واحباب میں تقسیم فرما دیتے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوست آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیروی میں اسے بھلائی کے کاموں میں خرچ کر ڈالتے۔ اس میں سے کچھ بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچا کر نہ رکھتے اور فرمایا کرتے: ''زُہد (یعنی دُنیا سے بے رغبتی )مال نہ ہونے کانام نہیں بلکہ زُہد تو یہ ہے کہ دل اس سے فارغ ہو۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب العلم،باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامھما واحکامھما،ج۱،ص۴۸)
مزید ارشاد فرمایا:''جو بندہ حدیث کے بیان میں سچاہوتا ہے اور جھوٹ نہیں بولتا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اس کی عقل سے نفع عطافرماتا ہے اور بڑھاپے میں اسے کوئی آفت نہیں پہنچتی اور نہ ہی اس کی عقل خراب ہوتی ہے ۔''
(المرجع السابق،ص۴۷)
حضرت سیِّدُنا عمر بن ابوسلمہ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ''جب میں نے مؤ طا امام مالک پڑھی تو خواب میں ایک آنے والا آیا اور کہنے لگے: ''بلا شبہ یہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعث ِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا کلام ہے۔''
(التمھید لابن عبد البر،مقدمۃ المصنف،باب ذکر عیون من اخبار مالک وذکر فضل موطئہ،ج۱،ص۶0)
منقول ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی کتاب ''مُؤْطَّا''تالیف کرنے کا ارادہ فرمایاتو اس میں غور وفکر کرنے لگے کہ اس کا نام کیا رکھا جائے؟ فرماتے ہیں کہ ایک دن جب میں سویا توسرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عث ِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت سے فیض یاب ہوا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
''وَطِّیئُ ھٰذَا الْعِلْمَ لِلنَّاسِ
یعنی اس علم کو لوگو ں کے لئے آسان (یا تیار) کر دو۔''لہٰذا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا نام ''مُؤْطَّا'' رکھا۔
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مبارک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''ہم حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضرتھے اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں حدیث ِ پاک بیان فرما رہے تھے۔ اچانک ایک بچھو نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سولہ (16) مرتبہ ڈنگ مارا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے کارنگ بدل کر زردپڑگیا۔ اس کے باوجودآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث ِ پاک بیان کرتے رہے۔ جب سب لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کی: ''اے ابو عبداللہ! آج میں نے آپ کی عجیب حالت دیکھی ہے؟'' تو ارشاد فرمایا:''ہاں! میں نے حضور نبئ کریم، ر ء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی حدیث ِ پاک کی تعظیم کرتے ہوئے صبر کیا ہے۔''(ترتیب المدارک وتقریب المسالک،باب صفۃ مجلس مالک للعلم،ج۱،ص۴۵)
حضرت سیِّدُنا مصعب بن عبداللہ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضورنبئ پاک، صاحب ِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا نامِ نامی، اسمِ گرامی لیتے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا رنگ بدل جاتااور
حضرت سیِّدُناکعبُ الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ''جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے موجودات کو پیدافرمانے کاارادہ کیا اور زمین کوبچھایا اورآسمان کو بلندفرمایا تواپنے فیض ذات سے مُٹھی بھر لے کر اس سے ارشاد فرمایا:''اے نور! محمدبن جا۔'' اُس نور نے ایک نوری ستون کی صورت اختیار کرلی اور اس قدر روشن ہوا کہ عظمت کے پردے تک جاپہنچا اور ربّ ِ کائنات عَزَّوَجَلَّ کو سجدہ کیا اور کہا: ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! یعنی سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں ۔'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ''میں نے تجھے اسی لئے پیدا فرمایا اور تیرا نام محمد ( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)رکھا ہے،تجھی سے اپنی مخلوق کی ابتدا کروں گا اور تجھی پر اپنی رسالت کا سلسلہ ختم کروں گا۔'' پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس نور کے چارحصے کرکے ایک حصے سے لوحِ محفوظ اوردوسرے سے قلم کو پیدا فرمایا پھر قلم سے ارشاد فرمایا: ''لکھ !'' تو قلم پر ایک ہزار سال تک ہیبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے لرزہ طاری رہا۔ اس کے بعد قلم نے عرض کی :''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! کیا لکھوں ؟ '' ارشاد فرمایا: