Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
415 - 649
قرآنِ مجید اور میری سنت کے بعد مسلمانوں کے گروہ میں ''مُؤطَّا''(امام مالک)سے زیادہ صحیح کتاب کوئی نہیں۔لہٰذا تُو ا سے سن کر اس سے نفع حاصل کر ۔''
     (موطأ امام محمد مع التعلیق الممجد علی الموطأ،ج۱،ص۷۲)
امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور علم کی قدر:
  حضرت سیِّدُنا عتیق بن یعقوب زبیری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: ''ایک دفعہ خلیفہ ہارونُ الرشید مَدِیْنَۂ مُنَوَّرَہ
زَادَھَا اللہُ تَعْظِیْماً وَّتَکْرِیْماً
حاضر ہوئے اور انہیں یہ خبر پہنچی کہ حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس احادیث کی ''مؤطا'' نامی کتاب ہے جووہ لوگوں کو پڑھ کرسناتے ہیں۔تو خلیفہ ہارونُ الرشیدنے (اپنے وزیر) بَرْمَکِی کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف یہ کہتے ہوئے بھیجا کہ امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میرا سلام کہنا اورکہنا کہ وہ کتاب لے کرمیرے پاس آئیں اور مجھے پڑھ کر سنائیں۔ برمکی نے جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:''جاؤ،خلیفہ کومیرا سلام کہواورپھر کہو:''علم کے پاس جانا پڑتا ہے، یہ خود کسی کے پاس نہیں آتااور علم حاصل کرنا پڑتا ہے، یہ خودحاصل نہیں ہوتا۔'' برمکی نے خلیفہ ہارون الرشید کے پاس آکر جب یہ سب بیان کیا تو اس وقت دربار میں قاضی ابو یوسف بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کہنے لگے: ''اے امیر المؤمنین! اہلِ عراق کویہ بات پہنچ سکتی ہے کہ آپ نے امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیامگر انہوں نے نافرمانی کی لہٰذا آپ ان پر سختی کریں ۔''

    ابھی یہ گفتگو چل رہی تھی کہ حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے آئے اور سلام کرکے بیٹھ گئے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے پوچھا:''اے ابن ابی عامر! میں نے آپ کو پیغام بھیجا تھا اور آپ نے انکارکردیا۔''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اے امیر المؤمنین! حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں:''میں رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں وحی لکھاکرتاتھا، میں نے یہ آیتِ مبارکہ لکھی:
''لَایَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُجٰھِدُوْنَ
تر جمہ: برابر نہیں وہ مسلمان کہ جہاد سے بیٹھے رہیں اور وہ کہ جہاد کرتے ہیں۔'' اس وقت حضرت سیِّدُنا ابنِ اُمِّ مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزّت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ سراپا عظمت میں حاضرتھے۔ انہوں نے عرض کی :''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !میں ایک نابیناومعذور شخص ہوں اور آپ جانتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جہاد کی بہت فضیلت ارشادفرمائی ہے۔'' توحضورنبئ پاک، صاحب ِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''میں اپنے اندازے سے نہیں جانتا (کہ معذور کیا کریں)۔'' حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ
Flag Counter