Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
414 - 649
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم حضرت سیِّدَنا ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو پہلو میں لئے مزارِ پُر اَنوارسے باہر تشریف لائے۔ میں نے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے جواب مرحَمَت فرمایا۔ میں نے عرض کی :''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں ؟'' ارشاد فرمایا: ''مالک کے لئے سیدھی راہ قائم کررہا ہوں۔'' بیدار ہونے کے بعد جب میں اور میرے والد ِ محترم باہر آئے تو لوگوں کو حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جمع دیکھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مؤطَّا شریف نکالی ہوئی تھی اور یہ مؤطا شریف کی پہلی آمد تھی۔''
 (ترتیب المدارک وتقریب المسالک،باب ذکر المؤطَّأ وتألیف مالک ایاہ، ج۱، ص۶0، بتغیرٍقلیلٍ)
مؤطّا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت وشان:
    حضرت سیِّدُنامحمد بن عبدالحکم علیہ رحمۃ اللہ المکرم کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا محمد بن ابو سری عسقلانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو فرماتے سناکہ میں خواب میں سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردْگار عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت سے مشرف ہوا اور عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! مجھے علم کی ایسی بات ارشاد فرمایئے جسے میں اپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے حوالے سے بیان کروں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''میں نے مالک کو ایک خزانہ عطا فرمایا ہے جو وہ تم میں تقسیم کریگا۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لے جانے لگے تو میں بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پیچھے چل پڑا اوردوبارہ عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کچھ علم عطا فرمایئے جسے میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے حوالے سے بیان کروں۔''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پھر وہی جواب ارشاد فرمایا: ''میں نے مالک کوایک خزانہ عطافرمایاہے جووہ تم میں تقسیم کریگا۔''پھر جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لے جانے لگے تو میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پیچھے ہو لیااور تیسری بار بھی یہی عرض کی :''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مجھے کوئی علم کی بات ارشاد فرمادیجئے جسے میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے حوالے سے بیان کروں۔''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ 

وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے ابنِ سری ! میں نے مالک کو ایک خزانہ دیا ہے جووہ تم میں تقسیم کریگا۔ سن لے! وہ مؤطَّا ہے اور
بقیہ حاشیہ۔۔۔۔۔۔ منبرِ اقدس (جہاں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم خطبہ ارشاد فرماتے تھے) کے درمیان کا حصہ ''جنت کی کیاری'' ہے۔ چنانچہ،ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:'' میرے گھر اور منبر کی درمیانی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔''
 (الصحیح البخاری، کتاب فضل الصلٰوۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، باب فضل ما بین القبر والمنبر، الحدیث:۱۱۹۵، ص۹۳)
Flag Counter