| حکایتیں اور نصیحتیں |
دیں، انہیں مشکلات میں ڈالا اور طلب ِ علم میں خوب جدو جہد کی تواللہ رحمن عَزَّوَجَلَّ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی ۔
شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے: ''جو شخص طلب ِعلم کے لئے کسی راستہ پر چلے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔''(صحیح مسلم،کتاب الذکر والدعاء،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر،الحدیث۲۶۹۹،ص۱۱۴۷)
حدیث ِ پاک میں ہے،'' ایک عالم شیطان پر ہزار عابد سے بھاری ہے۔''
(جامع التر مذی ، ابواب العلم ،باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، الحدیث ۲۶۸۱ ، ص ۱۹۲۲''العالم''بدلہ''فقیہ'')
اگر اسلام میں ایک عابد فوت ہو جائے تو اس میں صرف ایک شخص کی کمی ہوگی اور اگر ایک عالم چل بسے تو گویا لوگوں میں سے ایک قبیلہ فوت ہوگیا۔ روئے زمین پر جب کوئی عالم انتقال کر جائے تو اسلام میں ایک ایسا شگاف پڑتا ہے جسے اس وقت تک کوئی بند نہیں کر سکتا جب تک دن رات آتے جاتے رہیں گے۔
جان لو! ''طالب ِ علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لئے ملائکہ اپنے پر بِچھا دیتے ہیں ۔''(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب الطھارۃ،باب المسح علی الخفین وغیرھما،الحدیث ۱۳۱۶،ج۲،ص۳0۷)
علماء کے قلموں کی سیاہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں شہداء کے خون سے افضل ہے۔
(الجامع الصغیر، الحدیث ۹۶۱۹، ص۵۷۱۔ مفھوماً)
بروزِ قیامت جب راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں شہید ہونے والے علماء کی فضیلت دیکھیں گے تو تمنا کریں گے، کاش! اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی علماء میں اٹھاتا۔جس نے علم کو پا لیا تحقیق اس نے دنیا و آخرت کی بھلائیوں کو پا لیا اورجس نے علماء کو اذیت دی اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اعلانِ جنگ کیا۔
امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کاکَرَم:
حضرت سیِّدُنا محمد بن رمح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ''میرے بچپن کا واقعہ ہے جبکہ میں ابھی نابالغ تھا۔ میں اپنے والد ِمحترم کے ساتھ حج کو گیا۔میں مسجد ِنبوی عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں مزارِ اَقدَس اور منبر شریف کے درمیان جنت کی کیاری(۱) میں آرام کر رہا تھا کہ مجھے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت ہوئی۔
1۔۔۔۔۔۔شیخِ شریعت و طریقت، امیرِ اہل سنت حضرت علاّمہ ابوبلال مولانا محمد الیاس عطّار قادری دامت برکاتہم العالیہ کتاب ''رفیق الحرمین'' کے صفحہ۲۱۸ پر تحریر فرماتے ہیں: تاجدارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے حجرۂ مبارکہ (جہاں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا مزار پرانوار ہے) اور۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر