| حکایتیں اور نصیحتیں |
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''میں افتاء اور حدیث کے لئے اس وقت تک مسند نشین نہ ہوا جب تک کہ ستر (70) علماءِ کرام ومشائخِ عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے میری اہلیت کی گواہی نہ دے دی۔''
(ترتیب المدارک وتقریب المسالک،باب فی ابتداء ظھورہ فی العلم وقعودہ للفتوی والتعلیم،ج۱،ص۳۴)
حضرت سیِّدُناحماد بن زید علیہ رحمۃاللہ الواحد کی خدمت میں ایک شخص کوئی مسئلہ پوچھنے آیا جس میں لوگوں کا اختلاف تھا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''اے بھائی ! اگر تو اپنے دین کی سلامتی چاہتا ہے تو عالِمِ مدینہ سے پوچھ اور ان کی بات توجہ سے سن کیونکہ وہ حجت (یعنی دلیل ) ہیں اور لوگوں کے امام ہیں ۔''
(المرجع السابق،ص۳۷)
حضرت سیِّدُنا حماد بن سلمہ علیہ رحمۃاللہ ارشاد فرماتے ہیں :''اگر مجھے کہا جائے کہ امتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے کوئی امام اختیار کروجس سے لوگ علمِ دین حاصل کریں تو میں حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواس کا حق دار اور اہل سمجھتا ہوں۔ اور میری یہ رائے امت کی بہتری کے لئے ہے۔''
(المرجع السابق،ص۳۶)
حضرت سیِّدُنا لیث بن سعد علیہ رحمۃاللہ الاحد فرماتے ہیں: ''حضرت سیِّدُنا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا علم پرہیزگاری کا علم ہے اور اس کے لئے حفظ وامان کا باعث ہے جو اسے حاصل کرے۔''
(ترتیب المدارک وتقریب المسالک، باب شھادۃ السلف الصالح واھل العلم لہ بالامامۃ فی العلم،ج ۱،ص۳۶)
حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن قاسم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرمایاکرتے تھے: ''میں اپنے دین میں دو آدمیوں کی پیروی کرتاہوں: عمل میں حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اور تقویٰ میں حضرت سیِّدُنا سلیمان بن قاسم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی۔''
(حلیۃ الاولیاء،مالک بن انس،الحدیث۸۸۷۸،ج۶،ص۳۵0)
سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!یہ کیسے عظیم لوگ تھے، جنہوں نے اپنی جانیں لوگوں کے نفع کے لئے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں وقف کر