| حکایتیں اور نصیحتیں |
السنہ حضرت سیِّدُنا محمد بن شہاب زُہری (۲)۔۔۔۔۔۔فقیہہ اہلِ مدینہ، حضرت سیِّدُناربیعہ بن عبدالرحمن (۳)۔۔۔۔۔۔حضرت سیِّدُنایحیی بن سعید انصاری اور(۴)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیِّدُناموسیٰ بن عقبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔ یہ تمام آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اساتذہ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ہیں اور ان سب نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے احادیث روایت کیں۔''
(سیر اعلام النبلاء، الرقم۱۱۸0، مالک الامام،ج۷،ص۳۸۵،مفصلًا)
عالِمِ مدینہ کون ہيں؟
تابعین و تبع تابعین علیہم ر حمۃاللہ المبین فرماتے ہیں کہ امام مالک علیہ رحمۃ اللہ الرازق وہ عالم ہیں جن کی بشارت حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دی تھی۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنی کتاب ''جَامِعِ تِرْمِذِی'' میں حدیث شریف نقل فرماتے ہیں: ''علم منقطع ہو جائے گاتوعالِمِ مدینہ سے زیادہ علم والا باقی نہ رہے گا۔''
(جامع الترمذی،ابواب العلم، باب ماجاء فی عالم المدینۃ،الحدیث۲۶۸0،ص۱۹۲۲،مختصرًا)
دوسری حدیث ِ پاک میں ہے: ''دُنیامیں اس (عالِمِ مدینہ) سے بڑھ کر کوئی عالم نہ ہو گا، لوگ اس کی طرف سفر کر کے آئیں گے۔''
(ترتیب المدارک وتقریب المسالک،الفصل الاول فی ترجیحہ من طریق النقل،ج۱،ص۱۸)
ایک حدیثِ پاک میں یوں ہے: ''عنقریب لوگ (علم کے لئے )سفر کریں گے توعالِمِ مدینہ سے زیادہ علم والا کوئی نہ پائیں گے۔''
(المستدرک ،کتاب العلم ، باب یوشک الناس ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث ۳۱۴ ، ج۱ ،ص ۲۸0)
حضرت سیِّدُناابن ِ عُیَیْنَہ رحمۃ اللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہیں: '' محدثینِ کرام کے نزدیک ''عالمِ مدینہ '' سے مراد حضرت سیِّدُنا امام مالک بن اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔''
(التمھید لابن عبد البر،زیدبن رباح،تحت الحدیث۱۲۲،ج۲،ص۶۷۴)
حضرت سیِّدُنا عبد الرزّاق رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''ہماری رائے یہ ہے کہ حضرت سیِّدُناامام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کوئی بھی ''عالمِ مدینہ '' کے نام سے معروف نہیں۔ لوگوں نے حصولِ علم کے لئے آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف جتنا سفر کیا اتنا کسی کی طرف نہیں کیا۔''
(جامع الترمذی،ابواب العلم،باب ماجاء فی عالم المدینۃ،تحت الحدیث۲۶۸0،ص۱۹۲۲،مختصرًا)
حضرت سیِّدُنا ابومصعب علیہ رحمۃ الرب فرماتے ہیں: ''حضرت سیِّدُناامام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازے پر لوگوں کا ہجوم لگارہتا او ر لوگ بہت زیادہ بِھیڑ کی وجہ سے طلب ِ علم کے شوق میں ایک دوسرے سے لڑ پڑتے ۔''
(سیر اعلام النبلاء،الرقم۱۱۸0،مالک الامام،ج۷،ص۴۲۲،بتغیرٍقلیلٍ)
حضرت سیِّدُنا یحیی بن شعبہ علیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ''میں مدینہ منورہ میں سن 144ہجری میں حاضر ہوا۔اس وقت حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی داڑھی اورسر کے بال سیاہ تھے۔ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گرد خاموش بیٹھے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رُعب کی وجہ سے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ تھی۔مسجد ِ نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کوئی فتویٰ نہ دیتاتھا۔ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیٹھ گیا اور ایک سوال کیا توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے حدیثِ پاک سے جواب دیا۔میں نے پھر سوال کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھرجواب ارشاد فرمایا۔پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوستوں نے مجھے جھنجھوڑا تو میں خاموش ہو گیا۔''
(ترتیب المدارک وتقریب المسالک،باب صفۃ مجلس مالک للعلم، ج۱، ص۴۸)