| حکایتیں اور نصیحتیں |
اس نے انہیں علم کے ذریعے عزت و جلالت اور رُعب وہیبت کا لباس پہنایا تووہ برگزیدہ ومنتخب بندے ہوگئے۔اس نے انہیں اپنے احکام کی حلاوت عطافرمادی لہٰذا انہیں طلب علم کے سفر میں کوئی تھکن نہ ہوئی اورجب وہ قیامت کے دن گروہ در گروہ حاضر ہوں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں کرامت کے تاج پہنائے گااور ان کے لئے یہ نداہوگی:
''اَھْلًا وَّ سَھْلًامَرْحَبًا۔''
مَیں اللہ عَزَّوَجَل کی ایسی حمد کرتا ہوں جسے نجات کاوسیلہ بنا سکوں۔اورمَیں اس کلمہ
''لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ''
(یعنی اللہ عَزَّوّجلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں) کی گواہی دیتا ہوں تاکہ خوش کرنے والی عزت و رفعت کا سامان ہوجائے۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت سیدنامحمدمصطفی،احمدمجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَل کے خاص بندے اور رسول ہیں اورجو خاص نبی اور پسندیدہ پیغمبرہیں۔آپ پردرودوسلام ہواورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے آل واصحاب ، ازواج مطہرات اورنیک وپسندیدہ اولادپرہمیشہ رحمت وسلامتی نازل ہوجب تک آسمان بادل ظاہرکرتا رہے اور موسلادھاربارش برساتارہے ۔ (آمین)
تعارُفِ امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
حضرت سیِّدُناحافظ ابو عمر بن عبدالبَر علیہ رحمۃاللہ الاکبر نے اپنی کتاب''الاَ نْسَاب'' میں تحریر فرمایاہے کہ حضرت سیِّدُنا امام مالک بن اَنَس بن ابی عامر اَصْبَحِیْ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینۃالرسول عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے امام ہیں ۔یہیں سے حق ظاہر اور غالب ہوا۔ یہیں سے دین کی ابتداہوئی اور اسے شہرت ملی۔یہیں سے شہر فتح کئے گئے اور مسلسل مدد ملی۔ امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ''عالِمِ مدینہ'' کہا جاتاہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علم کی شہرت ہر طرف پھیلی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اکتسابِ علم کے لئے لوگوں نے دور دراز کے سفر طے کئے۔
(سیر اعلام النبلاء، الرقم۱۱۸0، مالک الامام،ج۷،ص۳۸۸،مفھوماً)
فتاویٰ نویسی:
حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سترہ (17)برس کی عمر میں تدریسِ علم کی مسند پر تشریف فرما ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسا تذہ بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مسائل کے حل کے لئے آتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقریباً نوے (90)سال کی عمر پائی اور ستر سال تک فتویٰ نویسی فرمائی اور لوگوں کو علم سکھاتے رہے۔
جلیل ُ القدر تابعینِ کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فقہ اور حدیث کا علم حاصل کرتے رہے۔ مشہور ائمۂ حدیث اور علماء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے احادیث روایت کیں۔ جن میں سے چند کے نام یہ ہیں: ''(۱)۔۔۔۔۔۔امامُ