ترجمۂ کنزالایمان :اورگناہ کون بخشے سوا اللہ کے۔(پ4، اٰل عمران:135)
اوراگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے جہنم کی سزا اور ہمیشہ اس میں ٹھہرانے کا ارادہ فرمالیا ہوتا تو تجھے توحید و معرفت کی توفیق نہ دیتا۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند اشعار پڑھے، جو یہ ہیں:؎ إنْ کُنْتَ تَغْدُوْ فِی الذُّنُوْبِ جَلِیْدًا وَتَخَافُ فِیْ یَومِ الْمَعَادِ وَعِیْدًا فَلَقَدْ أتَاکَ مِنَ المُھَیْمِنُ عَفْوَہ، وَأتَاحَ مِنْ نِعَمٍ عَلَیْکَ مَزِیْدًا لَا تَیْأسَنَّ مِنْ لُطْفِ رَبِّکَ فِیْ الحَشَا فِیْ بَطْنِ أُمِّکَ مُضْغَۃً وَوَلِیْدًا لَوْ شَاءَ أنْ تَصْلِیْ جَھَنَّمَ خَالِدًا مَاکَانَ ألْھَمَ قَلْبَکَ التَّوْحِیْدًا
ترجمہ: اگر تو گناہوں میں پگھل کر برف بن چکا ہے اور اب قیامت کے دن کی سزا سے ڈر رہاہے تو یاد رکھ!حفاظت فرمانے والا خدا عَزَّوَجَلَّ تجھ پر عفو وکرم فرمائے گااور تجھے اپنی مزید نعمتیں فراہم کریگا۔ اے شخص! تواپنی ماں کے پیٹ کے اندر لوتھڑے اور نوزائیدہ بچے کی طرح تھا تو تب بھی اس نے اپنے لطف و کرم سے تجھے مایوس نہ کیا۔ اگر وہ تجھے ہمیشہ جہنم میں جلانا چاہتا تو تیرے دل میں اپنی وحدت پر ایمان داخل نہ کرتا۔
یہ سن کر وہ آدمی رو پڑا اور عبادت شروع کر دی۔ وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کلام سے بہت مسرور ہوا۔امامِ شافعی رضی اللہ تعا لٰی عنہ کی چند دعائیں
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کئی اشعار اور دعائیں ارشاد فرمائی ہیں۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مروان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: میں حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے علمی حلقہ میں بیٹھتا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سیکھ کر لکھا کرتا۔ ایک صبح میں اپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسجد میں موجود پایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز ادافرمارہے تھے۔ میں بیٹھ گیا حتی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو دعائیں فرمائیں ۔ان میں سے کچھ میں نے یاد کر لیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے:
''اَللّٰھُمَّ امْنُنْ عَلَیْنَا بِصَفَاءِ الْمَعْرِفَۃِ وَھَبْ لَنَا تَصْحِیْحَ الْمُعَامَلَۃِ فِیْمَا بَیْنَنَا وَبَیْنِکَ عَلَی السُّنَّۃِ وَارْزُقْنَا صِدْقَ التَّوَکُّلِ عَلَیْکَ وَحُسْنِ الظَّنِّ بِکَ وَامْنُنْ عَلَیْنَا بِکُلِّ مَا یُقَرِّبُنَااِلَیْکَ مَقْرُوْنًا بِعَوَافِی الدَّارَیْنِ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !ہم پر احسان فرماتے ہوئے خالص معر فت عطا فرما۔ہمیں ان معاملات کی درستگی عطافرماجو ہمارے اور تیرے درمیان ہیں۔اور اپنی ذات پر سچاتوکل اور حسنِ یقین عطافرما۔اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ! اپنی خاص رحمت سے ہمیں ہر وہ بھلائی عطا فرما جو دنیا وآخرت کی عافیتوں کے ساتھ ساتھ تیرا قرب بخشے۔''(آمین)