| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضرت عبداللہ علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: ''جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دعا سے فارغ ہوئے تو مسجد سے باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے ہو لیا۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ٹھہر گئے اور آسمان کو دیکھ کر زیرِلَب کچھ اشعار پڑھنے لگے۔
مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انگوٹھی عطا فرمائی :
حضرت سیِّدُنا ربیع علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں،میں نے حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کو فرماتے سنا: ''قیامِ یمن کے دوران میں نے خواب میں دیکھاگویا کہ میں طواف کی جگہ بیٹھا ہوں۔اسی دوران شیرِخدا، حضر ت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّ مَ اللَّہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم تشریف لائے۔ میں جلدی سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف لپکا، سلام عرض کیا اور مصافحہ کیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے سینے سے لگا لیا او ر اپنی انگلی سے انگوٹھی نکال کرمیری انگلی میں پہنا دی۔'' صبح کے وقت جب میں نیند سے بیدار ہوا تو مُعَبِّر (یعنی خواب کی تعبیر بتانے والے) سے اپنا خواب بیان کیا تواس نے مجھے بتایا: ''اے ابو عبداللہ! آپ کو خوش خبری ہو! آپ کا مسجد ِحرام میں حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّ مَ اللَّہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم کا دیدار کرنا عذابِ نار سے نجات کی بشارت ہے۔ آپ کا ان سے مصافحہ کرنا یومِ حساب میں امان ہے اور رہا ان کاآپ کی انگلی میں انگوٹھی پہنانا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عنقریب ساری دنیا میں آپ کی شہرت ایسی ہوگی جیسی حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّ مَ اللَّہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم کی ہے۔''
(تاریخ بغداد،الرقم۴۵۴، محمد بن ادریس الشافعی، ج۲، ص۵۸، بتغیرٍ)
امامِ شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی دُعا:
یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْن عَزَّوَجَلَّ! میں تیری پاکیزگی کے نور وعظمت اورتیرے جلال کی برکت کی پناہ مانگتاہوں ہر آفت و مصیبت اور شریر جن وانس کے پیش آنے سے، سوائے اس کے جو خیر لائے۔ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو ہی میری پناہ گاہ اور جائے قرار ہے لہٰذا میں تجھی سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ اے وہ ذات جس کے آگے بڑے بڑے جابروں کی گردنیں جھک جاتی ہیں اور بڑے بڑے سرکشوں کی گردنیں خم ہو جاتی ہیں۔یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ ! میں تیرے سامنے رسوا ہونے، عیبوں کا پردہ چاک ہونے، تیری یاد بھول جانے اور تیرے شکر سے مُنہ موڑنے سے تیرے جلال و کرم کی پناہ میں آتاہوں۔ میرے دن رات،آرام وسکون، اور سفر تیرے حفظ وامان میں ہیں۔تیری حمد وثناء میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔میں ہر عیب سے تیری پاکی بیان کرتا ہوں اور تیرے وجہِ کریم کی تکریم کرتا ہوں۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے !مجھے رسوا ئی اور اپنے بندوں کے شرسے محفوظ فرمااور بری خفیہ تدبیرسے محفوظ فرما۔ مجھ پر اپنی حفاظت کے خیمے اوڑھا دے اور مجھے اپنی عنایت کی حفاظت میں داخل فرما دے۔(آمین)
(حلیۃ الاولیاء،الامام الشافعی،الحدیث۱۳۲0۲/۱۳۲0۳،ج۹،ص۸۷)