حضرت سیِّدُنا ہارون بن سعید بن ہیثم ایلی علیہ رحمۃاللہ الولی نے ارشاد فرمایا:''میں نے حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی جیسا کوئی نہ دیکھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصر میں ہمارے پاس تشریف لائے تو لوگوں نے کہا:''ایک قریشی فقیہہ ہمارے پاس آئے ہیں۔'' پس ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زیادہ خوبصورت چہرے والااور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اچھی نمازپڑھنے والا کوئی نہیں دیکھا۔ ہم انتظار کرتے رہے جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز ادا کر لی تو گفتگو کا آغاز فرمایا۔ ہم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اچھا کلام کرنے والا بھی کوئی نہ دیکھا۔''
حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی عام طور پر حقیقت، دُنیا سے بے رغبتی اور دلوں کے بھیدوں کے متعلق کلام فرمایا کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے: ''وہ شخص دُنیاسے کیسے بے رغبت ہو سکتا ہے جو آخرت کی معرفت نہیں رکھتا؟ وہ کیسے دنیا سے خلاصی پا سکتا ہے جو خود کوجھوٹی طمع سے خالی نہ کرے؟ وہ کیسے سلامتی پا سکتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ نہ ہوں؟ وہ کیسے حکمت پاسکتا ہے جس کا کلام رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے نہ ہو؟''
کسی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: ''رِیا کیا ہے؟ ''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''جب تجھے اپنے عمل میں خودپسندی کا ڈر ہو تو دیکھ! تو کس کی رضا کا طالب ہے؟ کس ثواب کی طرف رغبت رکھتاہے؟ کس عذاب سے ڈرتا ہے؟ کس عافیت کا شکر ادا کرتاہے؟ اور کس مصیبت کویاد کرتاہے؟''(جب تو ان میں سے کسی چیز میں غور وفکر کریگا تو اپنے اعمال کو حقیر پائے گا۔)