Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
404 - 649
    حضرت سیِّدُنا ہارون بن سعید بن ہیثم ایلی علیہ رحمۃاللہ الولی نے ارشاد فرمایا:''میں نے حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی جیسا کوئی نہ دیکھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصر میں ہمارے پاس تشریف لائے تو لوگوں نے کہا:''ایک قریشی فقیہہ ہمارے پاس آئے ہیں۔'' پس ہم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زیادہ خوبصورت چہرے والااور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اچھی نمازپڑھنے والا کوئی نہیں دیکھا۔ ہم انتظار کرتے رہے جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز ادا کر لی تو گفتگو کا آغاز فرمایا۔ ہم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اچھا کلام کرنے والا بھی کوئی نہ دیکھا۔''

    حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی عام طور پر حقیقت، دُنیا سے بے رغبتی اور دلوں کے بھیدوں کے متعلق کلام فرمایا کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے: ''وہ شخص دُنیاسے کیسے بے رغبت ہو سکتا ہے جو آخرت کی معرفت نہیں رکھتا؟ وہ کیسے دنیا سے خلاصی پا سکتا ہے جو خود کوجھوٹی طمع سے خالی نہ کرے؟ وہ کیسے سلامتی پا سکتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ نہ ہوں؟ وہ کیسے حکمت پاسکتا ہے جس کا کلام رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے نہ ہو؟''

    کسی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: ''رِیا کیا ہے؟ ''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''جب تجھے اپنے عمل میں خودپسندی کا ڈر ہو تو دیکھ! تو کس کی رضا کا طالب ہے؟ کس ثواب کی طرف رغبت رکھتاہے؟ کس عذاب سے ڈرتا ہے؟ کس عافیت کا شکر ادا کرتاہے؟ اور کس مصیبت کویاد کرتاہے؟''(جب تو ان میں سے کسی چیز میں غور وفکر کریگا تو اپنے اعمال کو حقیر پائے گا۔)
(احیاء علوم الدین،کتاب العلم،باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامھما واحکامھما،ج۱،ص۴۶)
امامِ شافعی رضی اللہ تعا لٰی عنہ کے چند اشعار
    حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے بہت سے اشعارہیں جو حکمت و نصیحت پر مشتمل ہیں۔ ہم یہاں پر ان کاذکر کریں گے جو ہم تک پہنچے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صحیح طور پرثابت ہیں۔

     آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کلام حقائق اور دقیق معانی پر بھی مشتمل ہے۔جس میں سے کچھ حضرت سیِّدُنا سوید بن سعید علیہ رحمۃاللہ الحمیدنے نقل فرمائے ہیں۔ چنانچہ، فرماتے ہیں کہ ''حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی مدینۂ منورہ میں نمازِ فجر کے بعد بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی حاضرِ خدمت ہوااور عرض کی: ''میں  گناہوں کے سبب اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور پیشی کے وقت میرے پاس سوائے توحید کے کوئی عمل نہ ہو گا۔''حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے ارشاد فرمایا: ''اے بندۂ مؤمن ! اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے معافی سے مایوس کرنے کا ارادہ بھی کر لے تو بھی تیرے  گناہ بخشنا اس کے لئے ناممکن
Flag Counter