Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
403 - 649
 چنانچہ، ایک روز آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کسی عالِم کی برائی کر رہا تھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ''اپنے کانوں کو غیبت سننے سے پاک رکھوجیسے اپنی زبان کو غیبت کرنے سے بچاتے ہو۔ اس لئے کہ غیبت سننے والا بھی کرنے والے کا شریک ہوتا ہے ۔ بلاشبہ بے وقوف شخص جب اپنے برتن میں گندگی دیکھتا ہے تواسے تمہارے برتنوں میں انڈیلنا چاہتا ہے۔ اگر بے وقوف کی بات کا سختی سے انکار کردیا گیا تو انکار کرنے والااسی طرح خوش بختی سے سرفراز ہو جیسے بے وقوف بدبختی کا مستحق بنتا ہے۔''
      (حلیۃ الاولیاء،الامام الشافعی،الحدیث۱۳۳۶۴،ج۹،ص130)
    منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد القاہر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ الکبیر ایک متقی اور نیک شخص تھے۔وہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی سے تقویٰ کے مسائل دریافت کرتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے تقویٰ کی وجہ سے ان کی طرف توجہ فرماتے۔ ایک بار انہوں نے عرض کی:''صبر ،آزمائش اورطاقت وقدرت میں سے کون سی چیز افضل ہے ؟''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: ''طاقت،کہ یہ انبیا ء کرام علیہم السلام کا درجہ ہے اور آزمائش کے بعد ہی طاقت ملتی ہے۔ جب کسی کی آزمائش ہوتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے تواسے طاقت دی جاتی ہے ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو آزمائش میں ڈالاپھر اُنہیں طاقت عطافرمائی۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کو آزمائش میں مبتلا فرمایاپھر انہیں قوت عطا فرمائی۔ اسی طر ح حضرت سیِّدُنا ایوب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کا امتحان لیا پھر انہیں بھی طاقت دی اور حضرت سیِّدُنا سلیمان علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو بھی آزمائش میں مبتلافرما کر عظیم بادشاہت عطا فرمائی۔پس طاقت کا درجہ سب سے بلند ہے۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب العلم،باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامھما واحکامھما،ج۱،ص۴۶)
    حضرت سیِّدُنا عبدالملک بن عبد الحمید میمونی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''میں حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر تھا کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کا ذکر ِ خیر ہوا تو میں نے دیکھا کہ امام احمدرضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی بہت تعظیم کر رہے تھے ۔ پھر ارشاد فرمایا: ''مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ اِس امت میں ہر سو سال کے سِرے پر ایک ایسا شخص بھیجے گا جواس (اُمت ) کے لئے اس کے دین کو قائم کریگا۔''
 (سنن ابی داؤد،کتاب الملاحم، باب مایذکر فی قرن المائۃ،الحدیث۴۲۹۱، ص۱۵۳۵)
    (پھر فرمایا) حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز پہلی صدی کے مجدّ ِد تھے اور میں اُمید کرتاہوں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی دوسری صدی کے مجددہیں۔''
     (المستدرک،کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر بعض المجدِّدین فی ھذہ الامۃ، روایۃ استاذ ابی الولید، تحت الحدیث۸۶۳۹، ج۵، ص۷۳0)
Flag Counter