Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
402 - 649
دوسرے کی زبان پر۔''
(حلیۃ الاولیاء،الامام الشافعی، الحدیث۱۳۳۴۱، ج۹، ص۱۲۵۔المرجع السابق،ج۱، ص۴۶، بتغیرٍ)
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ''میں نے جس پر حق اور دلیل قائم کی اوراس نے میری بات مان لی تو میں نے اس کی تعظیم و توقیر کی اور اس کی محبت میرے دل میں بیٹھ گئی۔اور جس نے حق بات میں میرا انکار کیا اور میری دلیل کی(بے جا) مخالفت کی تو وہ میری نگاہوں سے گر گیااور میں نے اُسے چھوڑ دیا۔''
 (حلیۃ الاولیاء،الامام الشافعی،الحدیث۱۳۳۳۷،ج۹،ص۱۲۵)
    حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: '' میں چالیس سال سے جو بھی نماز پڑھتا ہوں اس میں حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے لئے دُعا ضرور کرتا ہوں۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے نے عرض کی: ''اے والد ِ محترم! یہ شافعی کون شخص ہے جس کے لئے آپ دُعا کرتے ہیں؟'' تو حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''اے میرے بیٹے! حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی دُنیا کے لئے سورج کی طرح اور لوگوں کے لئے عافیت کا باعث تھے تو اب بتاؤ! کیا ان دو صفات میں کوئی اُن کا نائب ہے؟''
(احیاء علوم الدین،کتاب العلم،باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم،ج۱،ص ۴۶)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایسے ہی صالح وپاک باز علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام دُنیا کے لئے سورج کی طرح اور لوگوں کے لئے عافیت کا باعث ہیں۔ ان کا نائب بھی کوئی نہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی برکت سے بلائیں دور کرتااور آسانیاں نازل فرماتا ہے۔ برکت عام ہوتی ہے اور رحمت بٹتی ہے۔

    سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! یہ کیسے عظیم لوگ تھے۔ دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرکے بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں حاضر ہو جاتے تھے جبکہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کو چھوڑ کر دنیا کی طرف بھاگتے ہو۔ اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام شیطان کو نامراد کرتے تھے جبکہ تم سے شیطان مسخری کرتا ہے۔ تمہارے اور ان کے درمیان کتنی دُوری ہے؟ دُنیا تم پر حکمرانی کر رہی ہے جبکہ وہ دنیا پر حکمرانی کرتے تھے۔ پس تم دُنیا کے غلام ہو جبکہ وہ اِس کی غلامی سے آزاد تھے۔ ان کے پاس سفرِ آخرت کا زادِ راہ تھا اس لئے اُنہیں شرمندگی نہ اٹھانی پڑی۔ انہوں نے زمانے کی قدر جانی تو زندگی میں ہو شیار رہے۔ اگر تم سحری کے وقت ان کا دیدار کرو توانہیں ہدایت کے ستارے پاؤ گے۔ نہیں، بلکہ وہ تو ہدایت کے چاند ہیں جو رات کی تاریکی میں بارگاہِ الٰہی میں کھڑے ہوکر عذر پیش کرتے رہتے ہیں جبکہ تم نیند اورغفلت کے طوفانی سمندروں میں ڈوبے ہوئے ہو۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دُنیا سے بے رغبتی:
    حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کو دُنیاسے کوئی رغبت نہ تھی۔ لغو اور بے ہودہ باتوں سے اجتناب فرماتے تھے۔
Flag Counter