Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
399 - 649
میں نے عرض کی:''چھ دینار۔'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے ایک تھیلی بھجوائی جس میں چوبیس (24)دینار تھے اور 201 سنِ ہجری مجھے جامع مسجد میں مؤذن لگوا دیا۔''
 (شعب الایمان للبیھقی،باب فی الجود والسخاء، الحدیث۱0۹۶۲،ج۷، ص۴۵۲)
     آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشادِ پاک ہے کہ ''اپنی جان پر سب سے زیادہ ظلم کرنے والا وہ ہے کہ جب وہ کوئی مرتبہ حاصل کر لے تو اپنے عزیز واقارب پر ظلم کرے،شناسا وواقف کار لوگوں کو نہ پہچانے، شرفاء کو حقیر جانے اور صاحب ِ فضل پر تکبر کرے۔''
 (2)ہٰذَا یَوْمُ لَا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿ۙ35﴾وَ لَا یُؤْذَنُ لَہُمْ فَیَعْتَذِرُوۡنَ ﴿36﴾
ترجمۂ کنزالایمان:یہ دن ہے کہ وہ بول نہ سکیں گے۔ اور نہ انہیں اجازت ملے کہ عذر کریں۔(پ29،المرسلٰت:35۔36)(۱)

    تو  ا ۤپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا رنگ متغیَّر ہو گیا، رونگٹے کھڑے ہوگئے اورجسم کے جوڑکپکپانے لگے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بےہوش ہو کر زمین پر تشریف لے آئے۔ جب افاقہ ہوا تو عرض کی: ''یاالٰہی عَزَّوَجَلَّ! میں جھوٹوں کے ٹھکانے اور غافل لوگوں کے منہ پھیرنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ !اہلِ معرفت کے دل تیرے لئے جھک گئے اورمشتاق لوگوں کی گردنیں تیری ہیبت کے سامنے جھک گئیں۔ اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !مجھے اپنا فضل وکرم عطافرمااور اپنے پردۂ بخشش میں چھپا لے اور اپنے لطف وکرم سے میری کوتاہیاں معاف فرما دے ۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب العلم،باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامھما واحکامھما،ج۱،ص۴۵)
    اے میرے اسلامی بھائی !دیکھ! جب حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کا اتنے علم کے باوجود یہ حال ہے تو تو بے علم ہونے کے باوجود کیسے بے خوف ہے۔ غافل جاہلوں کے لئے بربادی ہے! ان کی عمریں چھین لی جائیں گی۔ زندگی کے شب وروز ختم ہو جائیں گے اور گناہ لکھ دئیے جائیں گے۔ اب وہ نصیحت حاصل کرنے سے بہرے یااندھے ہیں جبکہ نصیحتیں تو واضح ہیں۔
1 ۔۔۔۔۔۔مفسرشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل، سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: '' نہ کوئی ایسی حجت پیش کرسکیں گے جو انہیں کام دے ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ'' روز قیامت بہت سے موقع ہوں گے، بعض میں کلام کریں گے، بعض میں کچھ بول نہ سکیں گے۔اور درحقیقت اُن کے پاس کوئی عذر ہی نہ ہوگا کیونکہ دُنیا میں حجتیں تمام کر دی گئیں اور آخرت کیلئے کوئی جائے عذر باقی نہیں رکھی گئی ۔البتہ انہیں یہ خیالِ فاسد آئے گا کہ کچھ حیلے بہانے بنائيں۔یہ حیلے پیش کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ جنید رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے فرمایا کہ ''اس کو عذر ہی کیا ہے، جس نے نعمت دینے والے سے رو گردانی کی ،اس کی نعمتوں کو جھٹلایا ،اس کے احسانوں کی ناسپاسی کی ۔''
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خوفِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ:
    ایک دن کسی نے حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی کے سامنے اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت کی:
Flag Counter