ترجمۂ کنزالایمان:اورانہیں ایک ساہے تم انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤوہ ایمان لانے کے نہیں۔(پ22،یٰسۤ:10)
نصیحتیں ان کے دلوں کے گرد گھومتی رہتی ہیں مگر داخل ہونے کا راستہ نہیں پاتیں۔
اللہُ قدیرعَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
(5) خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمۡ ؕ وَعَلٰۤی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ ۫
ترجمہ کنزالايمان :اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کر دی اور ان کی آنکھوں پر گھٹا ٹوپ ہے۔(۱)(پ1،البقرۃ:7)
اس کے باوجود مایوس نہیں ہونا چاہے، اس لئے کہ شراب ایک رات میں سرکہ بن جاتی ہے۔ چنانچہ،مُقلِّبُ القلوب رب عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
ترجمہ کنزالايمان :اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کر دی اور ان کی آنکھوں پر گھٹا ٹوپ ہے۔(۱)
اس کے باوجود مایوس نہیں ہونا چاہے، اس لئے کہ شراب ایک رات میں سرکہ بن جاتی ہے۔ چنانچہ،مُقلِّبُ القلوب رب عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
(6) یُقَلِّبُ اللہُ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ ؕ
ترجمۂ کنزالايمان :اللہ بدلی کرتا ہے رات اوردن کی ۔(پ18،النور :44)
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام لانے سے پہلے گھر سے نکلے توسخت دل تھے لیکن جب ایمان لائے تو دل صاف ہونے پر نرم پڑگئے۔
اے اسلامی بھائی! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے! اگرتجھے اندھیرے ڈھانپ لیں تو علمائے اسلام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی پیروی کر۔
1 ۔۔۔۔۔۔مفسرشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل، سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ کفار ضلالت و گمراہی میں ایسے ڈوبے ہوئے ہیں کہ حق کے دیکھنے،سننے، سمجھنے سے اس طرح محروم ہوگئے جیسے کسی کے دل اور کانوں پر مہر لگی ہو اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہو۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندوں کے افعال بھی تحتِ قدرتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ ہیں۔''