| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضرت سیِّدُنا حمیدی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی اپنے کسی کام کے سلسلے میں یمن تشریف لے گئے۔ جب واپس مکۂ مکرمہ
زَادَھَا اللہُ تَعَالٰی شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً
آئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس دس ہزار درہم تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ شریف سے باہر ہی خیمہ نصب کرلیا۔ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آتے رہے۔ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خیمے سے باہر نکلے تو سارا مال ر اہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں تقسیم کر چکے تھے ۔''
ایک دفعہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی حمام سے باہرنکلے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بہت سا مال تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سارا مال حمامی کو دے دیا۔(المرجع السابق،ج۱،ص۴۵،بتغیرٍقلیلٍ)
ایک دن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوار تھے کہ کوڑا ہاتھ سے گر گیا۔ ایک شخص نے اُٹھا کر پیش کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے سونے کے پچاس دینار عطا فرمائے۔
(المرجع السابق، ج۱،ص۴۵۔ بتغیرٍقلیلٍ)
مذا ق کرنے والے درزی کو بھی دُعائے خیر:
منقول ہے کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے کسی درزی سے قمیص سلوائی۔ وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقام ومرتبہ سے ناواقف تھا۔اس نے مذاق کرتے ہوئے دائیں آستین اتنی تنگ کر دی کہ اس میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ بمشکل داخل ہوتا اور بائیں اتنی کشادہ کر دی کہ اس میں سر بھی داخل ہوسکتا تھا۔ جب قمیص آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پیش کی گئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے جزائے خیر عطا فرمائے! تنگ آستین وضو میں اوپر چڑھانے کے لئے بہتر ہے اور کھلی آستین کتاب رکھنے کے لئے موزوں ہے ۔''اسی دوران خلیفۂ وقت کا قاصد دس ہزار درہم لے کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ درزی کے پاس ہی اس کی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوگئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قاصد کو فرمایا: ''اس درزی کو کپڑوں کی سلائی دے دو۔'' جب درزی نے قاصد سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق پوچھا تواس نے بتایا: ''یہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی ہیں۔''یہ سنتے ہی وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے ہو لیا اورقدم بوسی کرکے معذرت کی پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ہی رہنے لگا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حلقۂ احباب میں شامل ہو گیا۔
حضرت سیِّدُنا ربیع علیہ رحمۃاللہ الولی فرماتے ہیں: ''جب میرا نکاح ہوا تو حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی نے دریافت فرمایا: ''تو نے کتنا مہر مقرَّر کیا؟'' عرض کی :''تیس(30 )دینار۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر پوچھا:'' اپنی اہلیہ کو کتنی رقم دی؟''