زَادَھَا اللہُ تَعَالٰی شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً
کے مفتئ اعظم حضرت سیِّدُنا مسلم بن خالد زنجی علیہ رحمۃاللہ الغنی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فتویٰ کی ترغیب دینے لگے۔
(کتاب الثقات لابن حبان،باب المیم،الرقم۲۹۹۷محمد بن ادریس الشافعی،ج۵،ص۴0۶)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانام و نسب:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پورا نام محمد بن ادریس بن عباس بن عثمان بن شافع ہے اور نسب مبارک عبد ِ مناف سے جا کر نبئ پاک، صاحب ِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے جا ملتاہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بغداد شریف کا سفر کیا اوردو سال وہاں قیام فرمایا۔پھر مکۂ مکرمہ لوٹ آئے اور یہاں چند ماہ قیام فرمایا۔ پھر مصر تشریف لے گئے اور وہیں انتقال فرمایا۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو تین حصوں میں تقسیم فرما لیتے: ''تہائی علم کے لئے، تہائی نما ز کے لئے اور تہائی نیند کے لئے۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب العلم،باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامھما واحکامھما، ج۱، ص۴۴)
حضرت سیِّدُناربیع علیہ رحمۃاللہ الجلی کا بیان ہے کہ''حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی روزانہ ایک قرآنِ عظیم ختم کیا کرتے تھے۔''
(تاریخ بغداد،الرقم۴۵۴محمد بن ادریس الشافعی،ج۲،ص۶۱)
مزید فرماتے ہیں کہ''حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی ماہِ رمضانُ المبارک کے نوافل میں ساٹھ(60) بار قرآنِ پاک ختم کرتے تھے۔''
(احیاء علوم الدین،کتاب العلم،باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامھما واحکامھما، ج۱، ص۴۴)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلاوت:
حضرت سیِّدُنا حسن کرابیسی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''میں نے کئی بار حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی کی مَعِیَّت میں رات گزاری۔ میں نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک تہائی رات نماز پڑھتے اور کبھی پچاس آیات سے زیادہ تلاوت نہ کرتے، اگر کبھی زیادہ پڑھتے تو بھی سو (100)آیات تک پہنچتے۔ جب کسی آیتِ رحمت کی تلاوت کرتے تو بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں