تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے علما ء کو اعلیٰ اوربلند مراتب پرفائز فرمایا۔اوراس نے جب اپنے اسماء وصفات کے اسرارکی سمجھ کے لئے انہیں چن لیاتومراتب کوان کے لئے پست کردیااورانہیں احوالِ معرفت کے لئے جھکادیا۔ ان کی عقلوں کے موتیوں کو(کھرے کھوٹے کی)تمیزکے دھاگے میں مضبوطی سے پرو دیا۔ان کی نشانیاں تمام عالَم میں پھیلادیں۔ ان کی قلموں سے حکمتوں کے چشمے جاری کردئیے ۔توان میں سے ہرکوئی اپنے مذہب (یعنی فقہ)کے مطابق لکھتاہے۔چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نعمتِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ اور علم و فہم میں اس گروہِ علماء کے بادشاہ ہیں۔ اور حضرت سیِّدُنا امام مالک بن اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس گروہ میں فضل وکمال میں فائق ہیں،انہوں نے حدیث پاک کی راہ ہموار کی اور اپنے حصے کے احکام مرتب فرمائے۔اور حضرت سیِّدُنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی علم کی بہت زیادہ چاہت رکھنے والے ہیں اور انہوں نے علماء کو علم سے بڑ احصہ پہنچایا۔اور حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ علماء کے سردارہیں،ان پراعتماد کیا جاتا ہے پس وہ اپنے پاس کسی غم سے نہیں گھبراتے ۔اوریہ تمام اہلِ علم اپنے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ سے اپنی نیک طلب کے پورا ہونے کے انتہائی خواہش منداوراس فرمانِ ذیشان کی عملی تفسیرہیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے حبیب ،حبیب لبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر نازل فرمایاہے: