Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
387 - 649
زہر پلانے والا غلام آزاد:
    حضرت سیِّدُنا مجاہد علیہ رحمۃاللہ الواحد فرماتے ہیں: ''حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مرض الموت میں مجھ سے دریافت فرمایا: ''لوگ میرے متعلق کیا کہتے ہیں؟''میں نے عرض کی: ''لوگ کہتے ہیں کہ آپ پر جادو کیا گیا ہے۔'' تو ارشاد فرمایا:''مجھ پر کوئی جادو نہیں کیا گیا،ہاں! مجھے زہر پلایا گیاہے۔''پھر غلام کو بُلوایااور استفسار فرمایا: ''تو نے مجھے زہر کیوں دیا تھا؟'' وہ کہنے لگا:''مجھے ایک ہزار دینار دئیے گئے اور آزادی کا بھی وعدہ کیاگیا۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''وہ ہزار دینار لاؤ۔'' پس وہ رقم لے آیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بیت المال میں جمع کروا دیااور غلام سے فرمایا: ''جہاں جی چاہے چلے جاؤ، آج سے تم آزاد ہو۔''
     (سیر اعلام النبلاء،الرقم۶۶۲عمر بن عبد العزیز،ج۵،ص۵۹۵۔بتغیرٍ)
خواب میں اچھے خاتمہ کی بشارت:
    حضرت سیِّدُنا ابو حازم علیہ رحمۃاللہ الناصر فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی تکلیف پہنچنے کے فوراً بعد محو ِخواب تھے، پہلے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روئے، پھر مسکرانے لگے۔ جب آنکھ کھلی تو میں نے عرض کی، ''اے امیر المؤمنین! خواب میں کیسا معاملہ پیش آیا کہ آپ رو پڑے، پھر مسکرانے لگے۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: ''کیا تم نے دیکھ لیا تھا؟''میں نے عرض کی:''جی ہاں! اور ارد گرد کے تمام لوگوں نے بھی دیکھ لیا تھا۔''پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا: ''میں نے دیکھا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے، قبروں سے اٹھنے کے بعد لوگوں کی ایک سو بیس صفیں ہیں،جن میں سے اسّی (80) اُمَّتِ محمدیہ علٰی صاحبھا الصلٰوۃ والسلام کی ہیں۔اچانک منادی نے نِدا دی: ''(حضرت سیِّدُنا) عبداللہ بن ابی قحافہ (ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کہاں ہیں؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لَبَّیْک کہاتو فرشتوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں کھڑا کر دیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آسان حساب لیا گیا۔ فارغ ہونے کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوحکم فرمایا گیاکہ دائیں جانب والوں (یعنی جنتیوں) کی طرف آ جاؤ۔ پھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لایا گیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حساب کتاب بھی بآسانی مکمل ہو گیا پھر دونوں حضرات(یعنی ابوبکر وعمررضی اللہ تعالیٰ عنہما) کو دخولِ جنت کا حکم دیا گیا۔ اس کے بعد امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لایاگیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی ویسا ہی حساب لیا گیاپھر جنت میں جانے کا حکم دیاگیا۔'' پھرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو لایاگیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی ویسا ہی حساب لیا گیا اور دخولِ جنت کا حکم دیاگیا۔''
Flag Counter