Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
386 - 649
جھلنے لگے۔ جب کنیز بیدار ہوئی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پنکھا جھلتے ہوئے دیکھا تو اس کی چیخیں نکل گئیں۔ اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''تو بھی میری طرح انسان ہے، تجھے بھی میری طرح گرمی لگتی ہے۔ لہٰذا میں نے چاہا کہ تجھے پنکھا جھلوں جیسے تُو مجھے جھل رہی تھی ۔''
    (البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر، عمر بن عبد العزیز، ج۶، ص۳۴۸، مختصرًا)
    سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمارے سَلَف صالحین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عاجزی وانکساری کو اپنا شعار بنایا، تقویٰ کو اپنی چادر بنایا اور دُنیا کے لہوو لعب اور دھوکوں سے بچے رہے۔دُنیا ان کے سامنے مزیَّن ہوکر آئی مگرجب انہوں نے اسے عاریتاً دئیے ہوئے کپڑے کی طرح پایا تو ٹُھکرا دیا،اِس دُنیا نے کتنوں کو فکر ِ آخرت سے روکے رکھا، کتنی آنکھیں اندھی کر دیں اور کتنوں نے اِس کے ڈر سے اس کا لحاظ رکھا پھر بھی اِس نے دن رات ان سے کوئی رعایت نہ بَرتی۔

     پس اے اسلامی بھائی! اپنے پختہ عزم کے ساتھ اس سے دوری اختیار کر لے اور آخرت کو اپناٹھکانہ بنا لے اور اس کے تکلیف دہ لباس سے اجتناب کر کیونکہ ایسا لباس پہننے والے کتنے ہی لوگوں نے شرمندگی کا لباس پہنا۔

    حضرت سیِّدُنا ہلال بن قیس رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سن101 ہجری ماہِ رجب المرجب کی ابتداء میں مرض الموت میں مبتلا ہوئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ مرض بیس دن تک رہا۔''
 (الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم۹۹۵عمر بن عبد العزیز،ج۵،ص۳۱۶)
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زہر دیا گیا:
    ولید بن ہشام کا بیان ہے: ''میری ایک یہودی سے ملاقات ہوئی۔ اس نے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلیفہ بننے سے پہلے ہی مجھے بتادیا تھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنیں گے اور عدل کریں گے۔ میں نے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مل کر انہیں یہ بات بتا دی۔ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بن گئے اور چند روز بعددوبارہ اسی یہودی سے میری ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگا: ''کیا میں نے تمہیں بتایا نہ تھاکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عنقریب خلیفہ بن جائیں گے؟اور وہی ہوا جو میں نے کہاتھا۔''میں نے کہا:'' ہاں، ایسا ہی ہوا۔''پھر اس نے مجھے بتایا کہ اب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زہر پی لیا ہے، لہٰذا انہیں کہو کہ اپنا علاج معالجہ کرکے جان کی حفاظت کریں۔ ولید بن ہشام کا کہنا ہے کہ ''پھر میری ملاقات حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی،میں نے زہر کا معاملہ ذکر کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں وہ گھڑی جانتا ہوں جس میں مجھے زہر دیا گیا تھا، اگر میری شفا اپنے کانوں کی لَو چُھونے یا خوشبو سونگھنے میں ہوتی تو بھی میں انکار ہی کرتا رہتا۔''
 (حلیۃ الاولیاء،عمر بن عبد العزیز،الحدیث۷۴۶۸ ، ج۵، ص۳۷۷، بتغیرٍ)
Flag Counter