حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،''جب پکاراگیا کہ'' عمر بن عبدالعزیز کہاں ہے؟'' تو مجھے پسینہ آ گیااور ملائکہ نے مجھے پکڑ کر بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں کھڑا کر دیا۔ اللہ عَزَّوَجَلّ نے مجھ سے معمولی معمولی چیزوں اور میرے تمام فیصلوں کے متعلق پُوچھ گَچھ فرمائی،پھر مجھے بخش دیا اورجنت میں جانے کاحکم ہوا۔ پھر میرا گزر ایک نیم مردہ شخص پرہوا۔ میں نے ملائکہ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ خود اس سے پوچھیں یہ جواب دے گا۔ میں نے اپنے پاؤں سے اسے ٹھوکرماری تواس نے سر اٹھا کر اپنی آنکھیں کھول دیں۔ میں نے پوچھا،''تم کون ہو؟''تو وہ کہنے لگا،''آپ کون ہیں؟'' میں نے اپنا نام بتایا۔ اس نے پھر پوچھا، ''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' میں نے جواب دیا:''اس نے مجھ پر اپنا رحم وکرم فرمایا اور میرے ساتھ بھی وہی معاملہ فرمایا جوگذشتہ خلفاء(یعنی چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کے ساتھ فرمایا۔''یہ سُن کر اس نے مجھے مبارک باد دی۔ میں نے پھر اپنا سوال دُہراتے ہوئے پوچھا،''تم کون ہو؟''جواب ملا،''میں حجاج بن یوسف ثقفی ہوں،مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو میں نے اسے شدید غضب میں پایا۔ مجھے میرے ہر مقتول کے بدلے قتل کیا گیا اورحضرت سیِّدُنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بدلے ستر مرتبہ قتل کیا گیا اوراب میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اسی چیز کا انتظار کر رہاہوں جس کا تمام کلمہ گو انتظار کر رہے ہیں یعنی جنت یا جہنم۔''حضرت سیِّدُنا ابو حازم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: '' حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ خواب سننے کے بعد میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد کر لیا کہ آئندہ کسی بھی