Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
377 - 649
    یہ دین میں ان کی سرکشی کی علامت ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں سب سے زیادہ شرف والے دین کے ساتھ خاص فرمایا اور اس میں ہمارے لئے ایمان کے بہت سے راستے واضح کئے اور بالخصوص بنی عدنان کے سردار، سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی شفاعت سے بہرہ مند فرمایا۔
وَصَلَّی اللہُ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن
بقیہ حاشیہ۔۔۔۔۔۔ جاری رکھتے اور بجائے اس کے صفر کو ماہِ حرام بنالیتے اور جب اس سے بھی تحریم ہٹانے کی حاجت سمجھتے تو اس میں بھی جنگ حلال کرلیتے اور ربیعُ الاوّل کو ماہِ حرام قرا ر دیتے۔ اس طرح تحریم سال کے تمام مہینوں میں گھومتی اور ان کے اس طرزِ عمل سے ماہ ہائے حرام کی تخصیص ہی باقی نہ رہی۔ اس طرح حج کو مختلف مہینوں میں گھماتے پھرتے تھے۔ سید عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے حِجَّۃُ الوداع میں اعلان فرمایا کہ نسئ کے مہینے گئے گزرے ہوئے۔ اب مہینوں کے اوقات کی، وضعِ الٰہی کے مطابق حفاظت کی جائے اور کوئی مہینہ اپنی جگہ سے نہ ہٹایا جائے اور اس آیت میں نسئ کو ممنوع قرار دیا گیا اور کفر پر کفر کی زیادتی بتایا گیا۔ کیونکہ اس میں ماہ ہائے حرام میں تحریمِ قتال کو حلال جاننا اور خدا کے حرام کئے ہوئے کو حلال کرلینا پایا جاتا ہے۔''
Flag Counter