Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
376 - 649
؎ چاہیں تو اشاروں سے اپنے کایا ہی پلٹ دیں دُنیا کی 

یہ شان ہے خدمت گاروں کی سرکار کا عالم کیا ہو گا
    پیارے پیارے اسلامی بھائیو! یہ سب کچھ حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی برکات اور حسنِ ایمان کی وجہ سے تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مصر کے مسلمانوں کو اس بری بدعت سے نجات عطا فرمائی۔حضرت سیِّدُنا عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو حکم دیاکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کریں، اسی کی تعریف وتوصیف کریں اورگناہوں سے سچی توبہ کریں۔ اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام برے افعال اور لڑکیوں کو دریا میں پھینکنے کی عادتِ بد ختم کردی۔
قِبْطِیُوں کی مکروہ چال:
    جب قبطیوں(یعنی مصر کے قدیم عیسائی باشندوں)نے دیکھا کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ڈالنے سے دریا موجزن ہوگیا تو انہیں بڑی تکلیف ہوئی اور وہ اپنے مذہب کومضبوط کرنے کے لئے مختلف حیلے کرنے لگے تاکہ یہ واقعہ ان کی طرف منسوب ہو جائے ۔ لہٰذا انہوں نے یہ مکروہ چال چلی کہ جب دریاکی خاص طغیانی کا وقت قریب آتا تو کسی کوشہید قرار دے کر اُس کا تابوت دریا میں پھینک دیتے اور انہوں نے اس دن کو ''عید'' بنا لیاجو آج تک(یعنی صاحب ِ کتاب کے زمانے تک) اسی طرح ہے۔

    اسی طرح اہلِ مصر نے سال کے ایَّام میں پانچ دنوں کی زیادتی کر رکھی تھی جس کو وہ ''النَّسِیئُ''کہتے۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ پاک میں اس کا ردّ ِ بلیغ کرتے ہوئے ارشادفرمایا:
 (8) اِنَّمَا النَّسِیۡٓءُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُحِلُّوۡنَہٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوۡنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِـُٔوۡا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللہُ فَیُحِلُّوۡا مَا حَرَّمَ اللہُ ؕ زُیِّنَ لَہُمْ سُوۡٓءُ اَعْمَالِہِمْ ؕ وَاللہُ لَایَہۡدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿٪37﴾
ترجمۂ کنز الایمان:ان کا مہینے پیچھے ہٹانا نہیں مگر اور کفر میں بڑھنااس سے کافر بہکائے جاتے ہیں ایک برس اسے حلال،ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں کہ اس گنتی کے برابر ہو جائیں جواللہ نے حرام فرمائی ،اوراللہ کے حرام کئے ہوئے حلال کر لیں ان کے برے کام ان کی آنکھوں میں بھلے لگتے ہیں اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا۔(پ10، التوبۃ:37)(۱)
1 ۔۔۔۔۔۔مفسرِشہیر،خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ''نسئ لغت میں وقت کے مؤخر کرنے کو کہتے ہیں اور یہاں شہر حرام کی حرمت کا دوسرے مہینے کی طرف ہٹا دینا مراد ہے زمانۂ جاہلیت میں عرب اشہرِ حُرُم (یعنی ذوالقعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب) کی حرمت و عظمت کے معتقد تھے۔ تو جب کبھی لڑائی کے زمانے میں یہ حرمت والے مہینے آجاتے تو ان کو بہت شاق گزرتے۔ اس لئے انہوں نے یہ کیا کہ ایک مہینے کی حرمت دوسرے کی طرف ہٹانے لگے، محرم کی حرمت صفر کی طرف ہٹا کر محرم میں جنگ۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر
Flag Counter