سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جو اپنی وحدانیت(یعنی ایک ہونے) میں مضبوط و طاقتور ہے۔پس وہ واحدوغالب ہے۔وہ اپنی اَزَلیَّت (یعنی ہمیشہ سے ہونے)میں یکتا و بے مثل ہے ۔ اس نے سارے جہان کو حیرت وبے بسی کے سمندر میں غرق کر دیا۔اس نے موجودات کوحکمت سے بنایااور اس کے بنانے کی حکمت میں کوئی عیب ہے نہ کمزوری ۔اس نے آسمانی پوشاک کو خوبصورتی اورعمدہ واحسن طریقے کے ساتھ چمکتے ستاروں سے زینت بخشی۔ اس کے سامنے چانداورسورج کے نقش بنائے گویاکہ خالص چاندی اورخالص سونا ہے۔شہابِ ثاقب (یعنی ٹوٹنے والے چمکدارستارے)کے ذریعے چوری چھپے سننے سے مکمل حفاظت فرمائی اور اسے نگاہِ عبرت رکھنے والے عقلمندوں کے لئے نشانی بنایا۔ اس نے پانی کی تہہ پر زمین کو بچھایااور اسے اپنی قدرتِ کاملہ سے بہترین طریقہ پرنمایاں فرمایااور پہاڑوں کی میخوں کے ذریعے اسے قراربخشا۔اورمردانِ غیب (اولیاء کی ایک قسم )، اقطاب اور مخلص نیکوکاروں کااُسے مسکن بنایا۔اوران خاص بندوں کوعزت و کرامت کی خلعت(خِل۔عَت:یعنی عطیہ)عطافرمائی ۔دنیاکو ان سے پھیردیاتووہ نہیں جانتے کہ ''مال بچانا اورجمع کرنا''کسے کہتے ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں، اشارہ وکنایہ کوسمجھ جانے والوں کے لئے حق کوقائم کرنے والے خلفاء بنایا۔اور ان میں سے بعض کواپنی مملکت میں نرمی و آسانی اوراپنے بندوں کو نصیحت کرنے کے لئے خاص فرمایاجیساکہ صحابۂ کرام اور تابعینِ عظام جیسے حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیزرضوان اللہ تعالیٰ علیم اجمعین۔