Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
375 - 649
و خوار نہ ہو۔ پس وہ اپنا نامۂ اعمال اس قدر پست آواز میں پڑھے گا کہ کوئی بھی نہ سُن سکے گا۔فرشتے عرض کریں گے: ''اے ہمارے معبودِ برحق! یہ ایسی عنایت ہے جو پہلے کسی نافرمان پر نہیں کی گئی جبکہ تو نے اپنے نافرمان کو عذاب دینے اور جہنم میں جلانے کی وعید فرمائی ہے۔'' اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرمائے گا:''اے میرے فرشتو! میں نے دنیامیں اسے ماہِ رمضان کی شدید گرمی میں بھوک اورپیاس کی آگ سے جلایا تو آج اسے جہنم کی آگ میں نہیں جلاؤں گا۔ میں نے اسے بخش دیا اوراس کے سابقہ  گناہوں اور نافرمانیوں کو معاف فرما دیا اور میں ہی کرَم و احسان فرمانے والا ہوں۔ ''
دریائے نیل کے نام ایک خط:
    منقول ہے: ''فرعون کا طریقہ یہ تھا کہ جب دریائے نیل کا پانی کم ہوجاتاتو وہ اہلِ مصر کو حکم دیتاکہ وہ اپنی ایک نوجوان دوشیزہ کو طرح طرح کے زیورات سے آراستہ کریں، رنگ برنگے فخریہ لباس پہنائیں اور ہرطرح کی زیب و زینت سے اس دلہن کی طرح مزیَّن کریں جوشبِ زفاف (یعنی شادی کی پہلی رات) اپنے شوہر کے پاس آراستہ پیراستہ ہوکر جاتی ہے۔ پھر اس کو دریائے نیل میں ڈال دیں۔چنانچہ، لوگ ہر سال ایسا ہی کرتے ۔اکثر جاہل لوگوں کا یہ باطل عقیدہ تھا کہ دریائے نیل کی سطحِ آب تب تک بلند نہیں ہوتی جب تک کہ اس میں دُلہن کی طرح سجا سنوار کرکوئی لڑکی نہ ڈال دی جائے۔ یہی طریقہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانۂ خلافت تک رائج رہا۔ مصر میں آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گورنر حضر ت سیِّدُناعمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔جب اُن کو یہ بات معلوم ہو ئی تو انہوں نے اہلِ مصر کی اس بُری عادت کو انتہائی ناپسند کیااور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا جس میں ساری صورتِ حال بیان کی۔ توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً خط کا جواب لکھا اور ایک رقعہ بھی لکھا جس میں لکھا تھا:اللہ تعالیٰ کے بندے عمر بن خطاب کی جانب سے مصر کے دریا''نیل'' کی طرف!
    اَمَّا بَعْد!
        ''اے نیل! اگر تو اپنی مرضی سے جاری ہوتاہے تو مت جاری ہو اور اگر خدائے واحد وقہارعَزَّوَجَلَّ کے حکم سے جاری ہوتا ہے تو ہم اس کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ وہ تجھے جاری فرمادے۔''

     حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ رقعہ دریائے نیل میں ڈال دیااور اہلِ مصر نے یقین کر لیا کہ اب یہ ٹھاٹھیں مارنے لگ جائے گا۔ چنانچہ، جب لوگوں نے صبح کی تو دیکھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دریائے نیل کو جاری ہونے کا حکم فرمادیا ہے اور وہ ایک ہی رات میں سولہ گز بلند ہوگیا۔
 (العظمۃ لابی الشیخ الاصبھانی،باب صفۃ النیل ومنتھاہ، الحدیث۹۴0، ص۳۱۸)
Flag Counter