| حکایتیں اور نصیحتیں |
سے زیادہ ٹھنڈا اور میٹھا ہے ۔پاکی ہے اسے جس نے اس کے ذریعے خیالات کوپختہ کیا،آنکھوں کوقراربخشااور ارواح کے لئے حیات کا سامان کیا۔پس یہ قدرتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے پھیل گیا۔پودوں اوردرختوں کواگانے کے لئے جہتوں اوراطراف میں بہنے لگا۔ اور اس کے انعام کے دریاسے اکرام کی نہروں کی طرف چلنے لگا۔(چنانچہ،وہ فرماتاہے:)
'' ہُوَالَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّکُمۡ مِّنْہُ شَرَابٌ وَّمِنْہُ شَجَرٌ فِیۡہِ تُسِیۡمُوۡنَ ﴿۱۰﴾یُنۡۢبِتُ لَکُمۡ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیۡتُوۡنَ وَ النَّخِیۡلَ وَ الۡاَعْنَابَ وَ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۱﴾
ترجمۂ کنز الایمان:وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اس سے تمہارا پینا ہے اور اس سے درخت ہیں جن سے چراتے ہو اس پانی سے تمہارے لئے کھیتی اگاتا ہے اورزیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل بے شک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو۔''(پ۱۴،النحل:۱0،۱۱)
تووہی ذات ہے جس نے اس دریاکواپنی حکمت سے جاری اوراپنی قدرت سے ظاہرفرمایا۔ اس نے بندوں کے گمانوں کو ناکام نہیں کیا۔اوراس نے حقوق وحدودکی پاسداری کے سبب اس کی چمکتی موجوں کوحسنِ نظام وقانون کے تحت رکاوٹ کے خاتمے اوراس کا دہانہ(دَ۔ہا۔نَہ) کھولنے کی اجازت دے دی ۔اور اس نے رکاوٹ کوتوڑکرہرغمگین کے دل کوجوڑدیا۔اوراس دریا کی برکتیں کچے تالابوں اورنہروں کوعام ملنے لگیں۔اوروہ بحکمِ الہٰی شہروں کی طرف بہنے لگا۔پس پیاسے اس سے سیراب ہونے لگے اورپیٹ اسے دیکھ کر بھرنے لگے۔(چنانچہ ،ارشادباری تعالیٰ ہے:)'اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوۡقُ الْمَآءَ اِلَی الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا تَاۡکُلُ مِنْہُ اَنْعَامُہُمْ وَ اَنۡفُسُہُمْ ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوۡنَ ﴿ؓ۲۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور کیا نہیں دیکھتے کہ ہم پانی بھیجتے ہیں خشک زمین کی طرف پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں تو کیا انہیں سوجھتا نہیں۔''(پ۲۱،السجدہ:۲۷)
دریائے نیل کے متعلق حکایت:
منقول ہے کہ فرعون زمین میں سرکشی کے ساتھ ساتھ خدائی کابھی دعوے دارتھا۔ اس نے اپنی قوم کودریائے نیل کے ذریعے گمراہ کررکھاتھا وہ یوں کہ جب''یَوْمِ نَیْرُوْز'' ( یعنی آتش پرستوں کی عید کا دن ) آتااوردریائے نیل انتہائی ٹھاٹھیں مارنے لگتا تو لوگوں میں یہ اعلان کر دیا جاتاکہ تمہارے لئے فرعون نے دریائے نیل کوپُرجوش کردیاہے لہٰذاتم اسے سجدہ کرو تو جاہل لوگ اس کی بات پر یقین کرتے ہوئے اُسے سجدہ کرتے۔ ایک سال دریائے نیل کاپانی کم ہوناشروع ہوا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے پُرشور موجیں مارنے کی اجازت نہ دی۔ لوگ بھوک کے سبب نڈھال ہوگئے اورقحط میں مبتلاہو گئے۔چنانچہ، پوری قوم اکٹھی ہوکرفرعون کے پاس گئی اور اس سے مطالبہ کیا،''ہمارے اہل وعیال،اولاداورجانورسب ہلاک ہوئے جارہے ہیں،اگرتم ہمارے خداہوتو دریائے نیل کاپانی جاری کردو۔''تواس لعین نے جواب دیا:''ایساہی ہوگا۔''پھر وہ اُونی لباس، بالوں کی بنی ہوئی ٹوپی اورراکھ