| حکایتیں اور نصیحتیں |
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔''۔۔۔۔۔۔اوراس نے اپنی طرف رجوع کرنے والے پرنرم چلنے والی ہواؤں کے ساتھ اپنی عطا و بخشش بھیجی۔چنانچہ، زمین خشک ہو جانے کے بعدتر و تازہ اور سر سبزو شاداب ہوگئی۔اوراس نے اپنی مفلسی وناداری کے بعد سبز حلے پالئے (یعنی سبزہ زارہوگئی)۔
پاک ہے وہ ذات جس کی قدرت کی مثال نہیں ۔اس کی حکمت کاکوئی مقابل نہیں ۔اس کی نعمت کا شمار نہیں۔وہ گنہگاروں کو بہت زیادہ معاف فرمانے والااور فرمانبرداروں کو بہت زیادہ اجر و ثواب عطا فرمانے والاہے۔اس کی بارگاہ سے منہ موڑنے والا نقصان و خسارہ ہی اٹھاتاہے اوراس کے در سے پھرنے والااپنے شیریں مشروب کوبھی کڑوا پاتاہے۔تو اے سرکشی ونافرمانی کی چراگاہ میں بھٹکنے والے !بے شک تو نے بہت بری بات کاارتکاب کیا۔اوراے کفر وبے دینی کے بیابان میں سرگرداں! بے شک تو ایسی بات پراڑاہوا ہے جس کی تجھے خبرنہیں۔کیا تجھے ہلاکت کاڈر نہیں؟( سُن!وہ کیافرمارہاہے:)'' وَ مَکَرُوۡا مَکْرًا وَّ مَکَرْنَا مَکْرًا وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوۡنَ ﴿۵۰﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور انہوں نے اپنا سا مکر کیا اور ہم نے اپنی خفیہ تدبیرفرمائی اور وہ غافل رہے۔''(پ۱۹،النمل:۵0) قسم بخدا! اس نے تیرے لئے ہدایت کاراستہ بالکل واضح فرمادیا ہے تو اب کسی گنہگار کو عذر کی گنجائش نہیں ۔ اوراس نے یہ بات قرآن حکیم میں واضح فرمادی ہے:
''وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔''(پ۲۲،فاطر:۱۸) (۱)۔۔۔۔۔۔عارفین(اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ)کی خوبی وکمال، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطاومہربانی ہے کہ وہ اپنے مالک ومولی عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کے لئے دنیا کی فریب کاریوں سے بیدارو ہوشیار رہے اور انہوں نے اپنے اوقات(یعنی رات دِن) کواس کی تسبیح وذکر میں فنا کر ڈالا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دلوں کواپنی محبت میں گرما کر انگارہ کردیا۔اور ان پراپنی محبت کے جاموں سے باربارشرابِ محبت کوگھمایا۔پس جب ساقی نے شرابِ محبت کو گھما دیا اور گانے والوں نے ذکر ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ کے نغمات گائے تو عارفین (اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ)ان آوازوں کی طرف مائل ہوگئے کہ کوئی طرب و مدہوشی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کویادکررہاہے ۔
تو اے سننے والے !نگاہِ فکر سے دیکھ کہ مخلوق کے عام نفع کے لئے قدرت نے کس طرح دریائے نیل کومصرکے بالائی شہروں سے گزارا ۔ یہ تمام اشیاء سے زیادہ تعجب خیز اور انوکھا ہے، اس کا منظر حسین تراور عمدہ ترین ہے اور اس کا پانی سب پانیوں1۔۔۔۔۔۔مفسرشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل، سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ''معنٰی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر ایک جان پر اسی کے گناہوں کا بار ہوگا، جو اُس نے کئے ہیں اور کوئی جان کِسی دوسرے کے عوض نہ پکڑی جائے گی ۔ البتہ! جو گمراہ کرنے والے ہیں ان کے گمراہ کرنے سے جو لوگ گمراہ ہوئے ،ان کی تمام گمراہیوں کا بار ان گمراہوں پر بھی ہوگا اور اُن گمراہ کرنے والوں پر بھی جیسا کہ کلامِ کریم میں ارشا دہوا:
''وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالاً مَعَ اَثْقَالِھِمْ۔
اور درحقیقت یہ اُن کی اپنی کمائی ہے دوسرے کی نہیں۔''(العنکبوت:۱۳)