Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
371 - 649
وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن
بیان 36:         مبارک دریا''نیل'' کا ذکرِخیر
حمد ِ باری تعالیٰ:
    سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے ظالموں کو ہلاک کیا۔ بندوں کو ستانے والوں کا رعب و دبدبہ خاک میں ملادیا۔اس نے دانے کو پھاڑ کر اس سے گندم کو اُگایا۔اس نے خشک وترگھاس اُگایااورجانوروں کے لئے مقررفرمایا۔اور(اس کا فرمانِ عالیشان ہے)
وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّ صِہۡرًا ؕ
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہی ہے جس نے پانی سے بنایاآدمی پھر اس کے رشتے اور سسرال مقررکی۔''۔۔۔۔۔۔ساری کائنات اس کے فضل کے گن گارہی ہے۔(پ۱۹،الفرقان:۵۴)پس یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ زبانیں اس کے شکرمیں اس کے ذکر سے ترہیں۔ اور(فرمانِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ ہے)
''فَسَلَکَہٗ یَنَابِیۡعَ فِی الْاَرْضِ
ترجمۂ کنز الایمان:پھر اس سے زمین میں چشمے بنائے۔''(پ۲۳،الزمر:۲۱)۔۔۔۔۔۔    اور انہیں اپنی حکمت کے مطابق لمبائی اورچوڑائی میں تقسیم فرمادیاتو ان سے نہریں بہہ نکلیں اور کچے تالابوں سے پانی زور و جوش کے ساتھ نکلنے لگا۔ اور اُس نے تمہارے لئے ''دریائے نیل'' کو ایک بڑی نشانی بنایا۔اس کی مضبوطی تعجب خیز ، بہاؤ خوشگوار اور خوشبو نہایت پاکیزہ ہے ۔ عظمت و شان کاحامل ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے اپنی قدرت وحکمت کے عجائب وغرائب پر دلیل بنایا ہے۔

    پاک ہے وہ ذات جس نے اس دریاکو مصر کے ساتھ خاص فرمایا۔یہ عظیم دریابڑاتعجب خیزہے کہ گرمیوں میں بھر جاتا ہے ، سردیوں میں اُتر جاتا ہے، جب دوسرے پانی رک جاتے ہیں تو یہ بہنے لگتا ہے اور جب سردی ظاہر ہونے لگتی ہے تو یہ دریاحاجات و مقاصدبرَلاتا ہے۔ دلوں کو فرحت و مسرت سے لبریز کر تا ہے۔پس جب کسی لمبی جدائی کے سبب اس میں اضطراب و بے قراری پیدا ہوتی ہے توغیرت کی زیادتی والے کی طرح اس کی بھی خواہش بڑھ جاتی ہے اور خشکی و تری کی خوشیوں کی مثل موجیں مارتاہے۔تو غورکروکہ موجیں مارنے کے ایام میں اس کی مقدارکی حالت کیسی ہوگی ۔اس کا بند دہانہ(دَ۔ہا۔نَہ) کھلنے سے قبل ہی کوئی تدبیر کرلو ۔ کیونکہ یہ جب بھی کوئی لمبا سانس لیتا ہے تو لمبائی وچوڑائی میں گڑھوں کو بھر دیتا ہے۔شہروں کواندرباہر، چہار طرف سے گھیر لیتا ہے۔ہربندے کواس کے اثرات پہنچتے ہيں۔تو اس سے نکلنے والی چھوٹی نہرٹوٹنے سے کتنے تکبرٹوٹ جاتے ہیں۔اوریہ دریااپنی روانی سے تمہارے غم دورکردیتاہے اوراپنے بہاؤ سے تمہارا گرم کلیجہ ٹھنڈا کردیتا ہے۔

    جب باغات خالی ہو جاتے ہیں اورکنوئیں کثرت کے بعد کمی کی شکایت کرتے ہیں اور ان کی پیاس اطراف میں نرمی وسختی سے ہنگامہ کرتی ہے تو توبہ کرنے پرفریاد رس کرم فرماتا ہے۔(اور ارشادباری تعالیٰ ہے)
''اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ؕ﴿۶﴾
 (پ۳0،الم
Flag Counter