Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
367 - 649
اس کے بعد کہنے لگی:''اے ذوالنون! میرے واپس آنے تک اسی جگہ ٹھہرئیے۔''پھر وہ ایک لمحہ میں غائب ہو گئی۔ جب واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں ایک پلیٹ تھی جس میں ایک طرف تر کھجوریں اور دوسری طرف انجیر اور انگور رکھے ہوئے تھے۔ اس نے پلیٹ میرے سامنے رکھ دی۔ میں نے اپنے دل میں سوچاکہ ستر سال عبادت کرنے کے باوجود میں اس مقام تک نہ پہنچ سکا جہاں یہ لڑکی چند دنوں میں پہنچ گئی۔ پھر کہنے لگی: ''اے شیخ!جب میں نے بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں حاضر ہوکر گناہوں کا اعتراف کیا اور سچی توبہ کی تو اس نے مجھے سچاتوکُّل عطا فرمایا۔پھر اس نے مزید اشعار پڑھے:
عِشْ غَرِیْبًا وَلَا تَذُلْ لِخَلْقٍ		وَاطْلُبِ الرِّزْقَ فِیْ بِلَادِ الْحَبِیْب

ثُمَّ سِرْ فِی الْبِلَادِ شَرْقًا وَّغَرْبًا		وَّتَوَکَّلْ عَلَی الْقَرِیْبِ الْمُجِیْب

فَعَسٰٓی اَنْ تَنَالَ مَا تَرْتَجِیْہِ		بِیَدِ اللُّطْفِ مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْب
    ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔دنیا میں اجنبی کی سی زندگی گزار، مخلوق کے سامنے کبھی نہ جھک اور اپنا رزق محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں تلاش کر۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔پھرمشرق ومغرب کے ممالک میں سیر و سیاحت کر اور ہمیشہ شہ رگ سے زیادہ قریب اور دعائیں قبول کرنے والے پر ہی بھروسہ کر۔

    (۳)۔۔۔۔۔۔ قریب ہے کہ تواپنے نزدیک سے ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دستِ فضل و احسان سے اس چیز کو پالے جس کی تجھے اُمید ہے۔

    حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''پھرمیں اس کی طرف متوجہ ہوالیکن وہ آنکھوں سے اوجھل ہو چکی تھی۔''

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! یہ ہیں تائبین کی صفات اورمُقَرَّبین کی علامات۔ اے بھائی! اپنے مولیٰ کی بارگاہ سے کبھی مت ہٹنا اگرچہ وہ تجھے دھتکار دے اوراس کے بابِ رحمت سے کبھی قدم نہ ہٹانا اگرچہ وہ تجھے قبول نہ کرے۔
حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ:
    منقول ہے، جب حضرت سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے ممنوعہ درخت سے کھایااور آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام کو رب عَزَّوَجَلَّ سے کیا ہوا وعدہ بھلادیا گیاتوجنَّتی لباس علیحدہ ہوگیا۔ وہاں کی ہر چیز آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام سے نامانوس ہو گئی۔ چنانچہ، آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام جلدی سے بھاگتے ہوئے جنَّتی درختوں کے پتوں میں چھپ گئے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے پوچھا:''اے آدم! کیا تم مجھ سے بھاگتے ہو؟''عرض کی:''نہیں، اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !بلکہ مجھے تجھ سے حیاء آتی ہے۔'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ''کیا میں نے تجھے اپنے دستِ قدرت سے پیدانہیں کیا؟ کیامیں نے تیرے لئے ملائکہ کو سجدہ کرنے کاحکم نہ دیا؟کیا میں نے تجھ میں اپنی طرف کی خاص روح نہ پھونکی؟ کیا میں نے تجھے اپنے قرب میں جگہ عطا نہ فرمائی؟ کیا میں نے تیرے لئے اپنی جنت مباح نہ کی؟ پس یہاں سے الگ ہو جا کیونکہ لغزش والا یہاں نہیں رہتا۔'' اس پرحضرت سیِّدُناآدم علیہ الصلٰوۃ والسلام جس
Flag Counter