| حکایتیں اور نصیحتیں |
جلیل عَزَّوَجَلَّ! تو نے ہمیشہ میرے عیبوں پر پردہ ڈالا۔ پس ایسے قارئ قرآں کا ٹھکانہ کل بروزِ قیامت جنت میں ہو گا اور وہ قربِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ پائے گا اور اپنی رفیقۂ جنت کے ساتھ رہے گا۔ اے اس کے لئے بہترین اختیار کرنے والے جو تجھے اختیار کرتا ہے!''
جب اس لڑکی نے ایسے پُراثر اشعار سنے تو بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ جب افاقہ ہوا تو ریشمی لباس تبدیل کرکے سارنگی توڑ دی اور شراب دریا میں بہا دی اور پھر عرض کرنے لگی:''اے محترم بزرگ! اگرمیں توبہ کرلوں تو کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے قبول فرما لے گا؟'' میں نے کہا: ''کیوں نہیں،جبکہ وہ اپنی مقدَّس کتاب میں خود ا رشادفرماتا ہے:(4) وَھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ
ترجمۂ کنز الایمان :اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتاہے۔(پ25،الشوریٰ:25)
پھر اس نے منہ سے نقاب ہٹایا اورکہنے لگی: ''اے محترم بزرگ!آپ میری اصلاح کا سبب بنے ہیں لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں میرے گذشتہ گناہوں کی معافی اوردرگزر کاسوال کریں ۔''حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ''پھر ہم سب کشتی سے اتر کر ایک دوسرے سے جد ا ہوگئے۔ اس کے بعد وہ لڑکی مجھے کہیں نظرنہ آئی۔ پھرایک دفعہ میں حج کی سعادت سے بہرہ مند ہوا تو وہاں ایک پراگندہ بالوں والی لڑکی دیکھی۔ وہ کعبۃاللہ شریفزَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّتَکْرِیْماً
کے غلاف سے لپٹ کر رو رو کر عرض کر رہی تھی: ''اے میرے معبود! میری رات کی مدہوشی اور نشے کا واسطہ! آج میرے گناہوں کو بخش دے۔'' میں نے کہا: ''رُک جا! ایسے عزت والے مقام پر کیسا کلام کررہی ہو؟''اس نے جواب دیا:''اے ذوالنون!مجھ سے دُور ہو جاؤ! کیونکہ جب میں نے گذشتہ رات خوشی ومسرت سے محبتِ حقیقی کا جام پیا توآج یوں صبح کی کہ اپنے آقا ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں مدہوش تھی۔'' میں نے پوچھا: ''تمہیں میرا نام کس نے بتایا۔'' کہنے لگی:'' میں وہی لڑکی ہوں جو مصر کے دریائے نیل میں آپ کے ہاتھ پر تائب ہوئی تھی ۔'' میں نے پوچھا:''تمہارا حسن و جمال کہاں گیا؟'' تو اس نے جواب میں درج ذیل اشعار پڑھے:
ذَھَبَتْ لَذَّۃُ الصَّبَا فِی الْمَعَاصِیْ وَبَقِیَ بَعْدَ ذٰلِکَ اَخْذُ النَّوَاصِیْ وَمَضَی الْحُسْنُ وَالْجَمَالُ وَمَالِیْ عَمَلٌ اَرْتَجِیْہِ یَوْمَ الْخَلَاصِ غَیْرَ ظَنِّیْ بِاللہِ وَ ھُوَ جَمِیْلٌ فِیْہِ اَخْلَصْتُ غَایَۃَ الْاِخْلَاصِ
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔ بچپن کی لذَّت گناہوں میں ختم ہو گئی اور اس کے بعد صرف افسوس سے پیشانی پکڑنا باقی رہ گیا ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔سب حسن و جمال چلا گیا اور میرے پاس کوئی ایسا عمل بھی نہیں جس کی وجہ سے بروزِ قیامت نجات کی امید کر سکوں۔
(۳)۔۔۔۔۔۔ البتہ! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حسنِ ظن کی دولت ہے اور اس میں میری نیت بالکل خالص ہے۔