Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
368 - 649
قدر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا، روتے رہے۔پھرعرض کی:''اے میرے معبود!اگرتومجھ پررحم نہ کریگاتوکون کریگا؟''تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی کہ یوں دعا کر:
''سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَا ۤاِلٰہَ اِلَّا ۤ اَنْتَ عَمِلْتُ سُوْءً ا وَظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَتُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّا بُ الرَّحِیْمُ
یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! تو ہر عیب سے پاک ہے اور تعریف کے لائق تیری ہی ذات ہے، تیرے سواکوئی معبودنہیں،مجھ سے لغزش ہوئی اور میں نے اپنی جان پر زیادتی کی پس تومیری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو بہت توبہ قبول فرمانے والااورمہربان ہے۔''     (مذکورہ کلمات کے متعلق) حضرت سیِّدُنا مجاہدعلیہ رحمۃ اللہ الواحد اور مفسِّرین کے ایک گروہ کا قول ہے کہ '' یہ وہ کلمات ہیں جو حضرت سیِّدُنا آدم علیہ الصلٰوۃوالسلام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے سیکھے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ علیہ والسلام کی توبہ قبول فرمائی۔''
رحمتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ ماں کی محبت سے بڑھ کر ہے :
    حضرت سيِّدُنا کعبُ الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں: '' بروزِ قیامت جب عدن کے سمندر کی گہرائی سے آگ نکلے گی تو تمام لوگ میدانِ محشر کی طرف ہانکے جائیں گے۔میدانِ قیامت کی ہولناکیوں سے لوگ متحیَّر، پیاسے، مدہوش اور کانپتے ہوں گے کہ اسی دوران اللہ عَزَّوَجَلَّ تجلِّی فرمائے گا تو اس کے نورسے زمین روشن ہوجائے گی اور مخلوق ایک دوسرے کو دیکھ لے گی اور ماں اپنے بیٹے کو دیکھے گی جس سے دنیا میں وہ بہت محبت کرتی تھی۔ وہ اسے پہچان کرکہے گی: ''اے میرے بیٹے ! کیامیراپیٹ تیری پناہ گاہ نہ تھا؟کیامیری گودتیرے لئے نرم بسترنہ تھی؟کیامیرادودھ تیرے لئے سیرابی کا باعث نہ تھا؟''توبیٹا پوچھے گا: ''اے میری ماں!توکیاچاہتی ہے؟'' وہ کہے گی: '' میرے گناہ مجھ پر بھاری ہوگئے ہیں توان میں سے صرف ایک گناہ اٹھا لے۔'' تو وہ کہے گا:''یہ بات ناممکن ہے! آج ہر جان اپنے عملوں میں گروی (یعنی رِہن) ہے۔ اے میری ماں! اگر میں تیرا بوجھ اٹھالوں تو میرا بوجھ کون اٹھائے گا؟''اسی دوران اللہ عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے ایک منادی اعلان کرے گا: ''اے فلاں بن فلاں! آؤ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش ہو جاؤ۔''یہ اعلان سنتے ہی اس شخص کارنگ متغیرہوجائے گا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیاء کے سبب اس کے اعضاء بے چین ہوجائیں گے۔ جب ماں اپنے بیٹے کی گھبراہٹ ملاحظہ کرے گی تو پوچھے گی:''اے میرے بیٹے! کیا ہوا؟'' وہ جواب میں کہے گا:''اے میری ماں!مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگا ہ میں پیش ہونے کے لئے بلایاگیاہے، اب میں اس سے بھاگ کر کہاں چھپوں یا میرا چھٹکارا کیسے ہو؟'' اسی دوران دوفرشتے اس کی طرف بڑھیں گے اور اسے پکڑ کر گھسیٹنا شروع کردیں گے۔ جب اس کی ماں دیکھے گی تو اُسے سینے کی طرف کھینچے گی اوراپنے بالوں سے چھپائے گی اور اپنی پوری طاقت سے فرشتوں کو اس سے دور کرنے کی کوشش کرے گی لیکن دور نہ کرسکے گی۔ جب دیکھے گی کہ وہ ان سے اپنا بیٹا نہیں لے سکتی
Flag Counter