| حکایتیں اور نصیحتیں |
اے رات کی تاریکیوں میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے تعلق جوڑنے والے پاک باز بندو! اے گروہِ تائبین ! تمام خوبیاں اسی کے لئے ہیں جس نے تمہیں اپنی عبادت کی توفیق عطا کی اور ہمیں پیچھے رکھا، سب تعریفیں اسی کے لئے ہیں جس نے تمہیں اپنا قرب عطا فرمایااورہمیں دُور رکھا۔(کیونکہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ چنانچہ،فرمانِ باری تعالیٰ ہے: )
(3) اِنۡ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان :ہم ہیں تو تمہاری طرح انسان مگراللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہے احسان فرماتاہے۔(پ13،ابراھیم :11)
سارنگی بجانے والی لڑکی کی توبہ:
حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ الغنی فرماتے ہیں: ''ایک دن میرادل کچھ بے چینی سی محسوس کر رہا تھا۔چنانچہ، میں دریائے نیل کے کنارے سیرکرنے کے لئے نکلا۔ میرے دل میں اسے عبور کرنے کا خیال آیا تومیں نے کشتی میں سوار ہو کر اپنا سر گھٹنوں میں چھپا لیا اورپھر نہ اٹھایا۔ جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو میں نے اپنا سر گھٹنوں سے اٹھایا تواپنی دائیں جانب ایک حسین لڑکی دکھائی دی جس کی گود میں سارنگی پڑی ہوئی تھی۔ اس کے سامنے شراب اوردائیں جانب صاف ستھرے لباس میں ملبوس ایک خوبصورت نوجوان کھڑا تھا۔میں نے دل میں کہا: اے نفس! تو سترسال کی عبادت کے بعد بھی اس کشتی میں ایک ایسی شرابی قوم کے درمیان پھنس گیاہے جو اعلانیہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرتی ہے۔ اتنے میں وہ لڑکی میری طرف متوجہ ہوئی اور بولی: ''اے بزرگ انسان!کیا آپ کچھ پینا چاہیں گے؟''میں نے جواب دیا: ''اگر میرے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے کچھ پلایاتوپی لوں گا۔'' چنانچہ، اس لڑکی نے اپنے غلام کو اشارہ کیاکہ وہ میرے لئے شراب کا پیالہ بھر دے، اس نے حکم کے مطابق شراب کاجام بھر کر مجھے پیش کر دیا۔جب پیالہ میرے ہاتھ میں آیا تو مجھ پر کَپکَپی طاری ہوگئی۔ لڑکی نے پوچھا :''اے شیخ! شراب کیوں نہیں پیتے؟ کیا تم چاہتے ہوکہ میں گانا گاؤں تاکہ تم شراب پیؤیا پھر تم گانا گاؤتاکہ ہم شراب پئیں؟'' میں نے کہا:''میں نغمہ سناتا ہوں، تم شراب پیؤ۔''وہ بولی:''ٹھیک ہے، تم سناؤ، ہم تمہارا نغمہ سنتے ہیں۔''پھر میں نے کچھ اشعار پڑھے، جن کا مفہوم یہ ہے:
''قرآنِ پاک پڑھنے والے قاری کی تلاوت رات کی تاریکی میں گانا گانے والی لڑکی اور بانسری سے بڑھ کر خوبصورت ہے۔ اے قرآنِ مجید کو دِلکش آواز سے پڑھنے والے! تیری کیا شان ہے! اس خوبصورت قرا ءَ ت کو ربّ ِ جلیل عَزَّوَجَلَّ سماعت فرما رہا ہے، تیرے آنسو بہہ رہے ہیں، رُخسار مِٹی میں لت پت ہیں اوردل محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مگن، یہ کہہ رہا ہے: اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے گناہوں کے بوجھ نے تجھ سے غافل رکھا۔ میرے گناہ بخش دے کیونکہ اب یہ بہت بڑھ چکے ہیں۔ اے میرے ربّ ِ